Shan e Ameer e Muawiya

Book Name:Shan e Ameer e Muawiya

بالفرض اگر حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی مزید شانیں نہ بھی ہوں تو بتائیے! کیا یہ کم شانیں ہیں جو انہیں صِرْف و صِرْف دَرْجۂ صحابیت حاصِل کرنے کی بدولت نصیب ہو گئی ہیں۔ مزید سنیے!

صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان مِعْیَارِ ہدایت ہیں

اللہ پاک فرماتا ہے:

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا (پارہ:1 ،سورۂ بقرہ :137)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لے آئیں، جیسا تم ایمان لائے ہو جب تو وہ ہدایت پا گئے۔

یعنی اے ہمارے مَحْبوب   صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم    کے صحابہ! قیامت تک جو بھی جِنّ یا اِنسان تمہاری طرح اِیمان لائے، مجھے، میرے رسولوں کو، میری کتابوں کو اس طرح مانے، جیسے تم نے مانا ہے، تب وہ ہدایت پر ہو گا، اگر کوئی سب کچھ مانے مگر تمہاری طرح نہ مانے تو گمراہ کا گمراہ ہی رہے گا، تم قیامت تک کے لیے اِیمان کی کَسَوْٹی ہو۔([1])

اللہ پاک کے مَحْبوب نبی، مُحَمَّدِ عربی   صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم    نے فرمایا: اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاِیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمْ اِہْتَدَیْتُمْ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی بھی پیروی کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔([2])

سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے صحابہ کی شان...!! جس خوش بَخت نے بھی زمانۂ رسالت پایا،


 

 



[1]...تفسیر نعیمی ،پارہ :1 ، سورۂ بقرہ ،تحت الآیۃ :137 ، جلد:1 ،صفحہ:771 ۔

[2]...مِشکاۃ المصابیح ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابۃ،جلد:2 ،صفحہ: 414 ، حدیث:6018۔