Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
اِیمان قبول کیا اور چاہے لمحہ بھر کے لیے ہی سہی، دیدارِ مصطفےٰ کا جام پیا، اُسے صِرْف ہدایت ہی نہیں ملی بلکہ وہ قیامت تک کے لیے ہدایت کا معیار بھی بن گیا۔
تیرے صدقے مجھے اِک بُوند بہت ہے تیری جس دِن اَچّھوں کو مِلے جام چھلکتا تیرا([1])
صحابئ رسول حضرت جابِر رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، مُحَمَّدِ عربی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَاٰنِی اَوْ رَاٰی مَنْ رَاٰنِی جس مسلمان نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابی) کو دیکھا، اُسے جہنّم کی آگ نہ چُھوئے گی۔ ([2])
اس حدیثِ پاک کے تحت مُفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یعنی جس نے ایمان کی حالت میں سرورِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا اور اِیمان پر ہی اُس کا خاتمہ ہوا، وہ دَوْزخ سے محفوظ رہے گا، یُونہی جن لوگوں کو اِخْلاص کے ساتھ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کی صحبت نصیب ہوئی، اُن کی خِدْمت کا موقع مُیسَّر آیا، وہ بھی دَوْزخ سے محفوظ ہیں، یعنی اللہ پاک انہیں نیک اعمال کرنے، بُرے اعمال سے بچنے یا اِن سے تَوْبَہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا، جس سے وہ دَوْزخ سے بچ جائیں گے۔ (سُبْحٰنَ اللہ!) حُضُورِ اَنْور صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھنے والی آنکھ کی زیارت بھی بہشتی ہونے کا ذریعہ ہے۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ شانِ صحابہ ہے۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ ویسے تو اُونچے رُتبے والے ہیں، آپ کی اور کوئی شان نہ ہوتی، تب بھی آپ اتنے سارے فضائِل کے مالِک ہیں۔ اس کے عِلاوہ بھی آپ کی بہت ساری شانیں ہیں۔ چند روایات سنیے!