Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
اللہ و رسول مُعَاوِیہ سے محبت کرتے ہیں
ایک دِن پیارے آقا، مَحْبوبِ خُدا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم مسلمانوں کی پیاری امی جان، حضرت اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے، اُس وقت حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ بھی وہیں تھے اور آپ کی پیاری بہن یعنی حضرت اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللہ عنہا آپ رَضِیَ اللہ عنہ کے سَر میں کنگھی کر رہی تھیں، بہن بھائی کا یہ پیار بھرا اَنداز دیکھ کر اللہ پاک کے پیارے نبی، مُحَمَّدِ عربی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے اُمِّ حبیبہ! کیا تم مُعاوِیہ سے محبّت کرتی ہو؟ عرض کیا: یہ میرے بھائی ہیں، بَھلا اِن سے محبّت کیوں نہ ہو گی؟ مالِکِ جنّت، صاحبِ کوثَر صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ و رسول بھی مُعاوِیہ سے محبّت کرتے ہیں۔([1])
حضرت اَبُودَرْداء رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے اُمِّ حبیبہ! مُعاوِیہ سے محبّت کرو! بے شک میں مُعاوِیہ سے محبّت کرتا ہوں اور میں اُس شخص سے بھی محبّت کرتا ہوں جو مُعاوِیہ سے محبّت رکھتا ہے، جبرائیل بھی مُعاوِیہ سے محبّت کرتے ہیں، مِیْکائیل بھی مُعاوِیہ سے محبّت رکھتے ہیں اور اے اُمِّ حبیبہ! جبرائیل و میکائیل علیہما السَّلام کی محبّت سے بڑھ کر اللہ پاک بھی اِن سے محبّت فرماتا ہے۔([2])
مُعاوِیہ کے پیار سے ہمارا بیڑا پار ہے گناہ بخشوائے گی شفاعتِ مُعاوِیہ
جو عاشقِ رسول ہیں وہ ان سے پیار کرتے ہیں فقط مُنافقوں کو ہے عداوتِ مُعاوِیہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، غیب جاننے والے نبی، رسولِ