Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
رَضِیَ اللہ عنہ نے امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کی خدمت میں 40 کروڑ رقم بطور نذرانہ پیش کیا۔ جب امام حَسَن رَضِیَ اللہ عنہ حضرت امیرمعاویہ رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے، خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے، کسی نے پُوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہیں، میں اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں۔([1])
حسنینِ کریمین کے استقبال کا مبارک انداز
حضرت محمد بن یعقوب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ کی جب بھی امامِ حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ یا امام حسین رَضِیَ اللہ عنہ سے ملاقات ہوتی تو اِستقبال کرتے ہوئے فرماتے: مَرْحَباًوَ اَھْلاً بِاِبْنِ رَسُولِ اللہ! یعنی خوش آمدید! خوش آمدید! اے شہزادۂ مصطفےٰ...!([2])
وہ اَہْلِ بیت کے مُحِبّ، وہ اَہْلِ بیت کے حبیب دو آتشہ ہوئی ہے یوں وجاہتِ معاویہ
وضاحت: حضرت امیر معاویہ اَہْلِ بیت سے محبّت کرتے ہیں اور اَہْلِ بیتِ کرام حضرت امیر مُعاوِیہ سے محبّت کرتے ہیں، یُوں حضرت امیر مُعاوِیہ اَہْلِ بیتِ کرام کا مُحِبّ ہونے کی بھی فضیلت حاصِل ہے اور مَحْبوب ہونے کی فضیلت بھی حاصِل ہے۔ رَضِیَ اللہ عنہ م
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان آپس میں بھائی بھائی ہیں
اے عاشقانِ رسول! ایک مرتبہ حضرت امیر مُعاوِیہ اورحضرت مولا علی شیرِ خُدا رَضِیَ