Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنّتی شخص آئے گا۔ اُس وقت حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، دوسرے دِن پھر اِرْشاد فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنّتی شخص آئے گا، اُس دِن بھی حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، تیسرے دِن پھر اِرْشاد فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنّتی شخص آئے گا۔ (سُبْحٰنَ اللہ!) تیسرے دِن بھی حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ ہی حاضِر ہوئے۔([1])
مُعاویہ!میں تم سے ہوں، تم مجھ سے ہو
ایک روایت میں ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت امیر مُعاوِیہ رَضِیَ اللہ عنہ کو فرمایا: مُعاوِیہ! میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، پھر آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے 2 انگلیوں کو ملا کر فرمایا: جنّت کے دروازے پر تُم میرے ساتھ اس طرح ہو گے۔([2])
کاتِبِ وحیِ خُدا ہیں اِذْن سے سرکار کے اور قطعی جنّتی بھی ہیں بفرمانِ رسول
امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ هادی اور مَهدی ہیں
تِرْمذی شریف میں ہے، مکی مَدَنی، مُحَمَّدِ عربی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ کے حق میں یُوں دُعا کی: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ھَادِیًا مَہْدِیاً وَاهْدِ بِہٖ اے اللہ پاک! *مُعاوِیہ کو ھادِی (یعنی دوسروں کو ہدایت دینے والا) بنا *ہدایت یافتہ بھی بنا اور *اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔ ([3])