Shan e Ameer e Muawiya

Book Name:Shan e Ameer e Muawiya

کے دِلوں پر نظر فرمائی، مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے بعد سب سے بہترین  دِل صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان  کے تھے، چنانچہ اللہ پاک نے  انہیں دِین کی خِدْمت کے لیے چُن لیا۔([1])    

سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوم ہوا؛ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان  سارے کے سارے چُنے ہوئے ہیں، اللہ پاک نے اپنے پیارے مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت کے لیے انہیں خاص طور پر منتخب فرمایا ہے۔

 صحابۂ کرام کی نِرالی شانیں

پیارے اسلامی بھائیو! بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی شان میں حدیثیں موجود نہیں ہیں۔

اَوَّل تو یہ بات ہی غلط ہے، آپ کی شان میں بہت ساری احادیث موجود ہیں، میں ابھی کچھ احادیث پیش بھی کروں گا۔ البتہ! یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا  صحابی ہونا کوئی فضیلت نہیں ہے...؟ آپ یقین مانیے! اگر بالفرض حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی اور کوئی بھی شان نہ ہوتی، تب بھی آپ کا صِرْف صحابی ہونا ہی اتنی بڑی شان ہے کہ قیامت تک آنے والے سارے کے سارے وَلِی، قطب، غوث، ابدال مِل کر آپ  کے قدموں کی شان تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔

قرآن اور صحابہ کی شان

ذرا دیکھیے! صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان  کی شان کیا ہے؟ *اللہ پاک نے فرمایا:

رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْه

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:ان سب سے اللہ راضی


 

 



[1]...فضائل الصحابہ لامام احمد، فضائل امیر المومنین عمر بن الخطاب...الخ، صفحہ:368، حدیث:541۔