Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
عنہما فرماتے ہیں: هُمْ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اِصْطَفَاهُمُ اللهُ لِنَبِيِّهٖ یعنی اس جگہ چُنے ہوئے بندوں سے مراد صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان ہیں، جنہیں اللہ پاک نے اپنے نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت کے لیے چُن لیا ہے۔([1])
اب آیت کا معنیٰ یہ بنے گا: اے پیارے مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم آپ کے جتنے صحابہ ہیں، جنہیں ہم نے آپ کی غُلامی کے لیے چُنا ہے، اِن پر سلام بھیجا کیجیے!
حدیثِ پاک میں ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اِخْتَارَ اَصْحَابِي عَلىٰ جَمِيعِ الْعَالَمِينَ اِلَّا النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِينَ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ اَصْحَابِي اَرْبَعَةً اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيًّا، فَجَعَلَهُمْ خَيْرَ اَصْحَابِي وَفِي اَصْحَابِي كُلُّهُمْ خَيْرٌ
ترجمہ: بیشک اللہ پاک نے نبیوں اور رسولوں کے بعد میرے صحابہ کو تمام جہانوں پر چُن لیا ہے۔ پِھر اِن صحابہ میں سے چار (1):ابوبکر، (2):عمر (3):عثمان (4):اور علی کو منتخب فرمایا، پس اِن کو سب صحابہ پر فضیلت بخشی اور میرے صحابہ سارے کے سارے ہی فضیلت والے ہیں۔([2])
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ پاک نے بندوں