Book Name:Shan e Ameer e Muawiya
*نیند سے بیدار ہوتے تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔([1])
*سورج نکلتا تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَلَّلَنَا الْيَوْمَ عَافِيَةً۔([2])
*گھر لوٹتے تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي([3])
*کھانا کھاتے تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي۔([4])
غرض؛ دِن اور رات میں آپ بار بار بہت کثرت سے اللہ پاک کی حمد و ثنا فرماتے تھے۔ اسی لیے آپ کا نامِ پاک اَحْمَد ہے یعنی اللہ پاک کی بہت زیادہ حمد و ثنا کرنے والے۔
یہ تو آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی دُنیوی زندگی کی شان ہے، روزِ قیامت جب آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی اَصْل شانوں کا ظہور ہو گا، تب لِوَاءُ الْحَمْد (یعنی حمد کا پرچم) آپ کو عطا کیا جائے گا، حدیثِ پاک میں ہے: پیارے مَحْبوب صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اُس دن اللہ پاک کی ایسی حمد بجا لائیں گے کہ ایسی حمد نہ پہلے کسی نے کی ہو گی، نہ آیندہ کوئی کرسکے گا۔([5])
دوسرا حکم رَبِّ کریم نے دیا:
سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى (پارہ:19، سورۂ نمل:59)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور اُن بندوں پر سلام ہو، جنہیں اللہ نے چُن لیا ہے۔
صحابئ رسول، ترجمانُ القرآن، سُلطانُ المفسرین حضرت عبدُ اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ
[1]...بخاری، کتاب الدعوات، باب وضع الید الیمنی...الخ، صفحہ:1560، حدیث:6314۔
[2]...عمل الیوم والیلۃلابن سنی، باب ما یقول اذا طلعت الشمس، صفحہ:105، حدیث:147۔
[3]...عمل الیوم والیلۃلابن سنی، باب ما یقول اذا دخل بیتہ، صفحہ:110، حدیث:158۔
[4]...موسوعہ ابن ابی الدنیا، کتاب الشکر للہ عزّ و جل، جلد:1، صفحہ:521، حدیث:167۔
[5]...بخاری، کتاب التوحید، باب کلام الرب عز و جل...الخ، صفحہ:1809، حدیث:7510خلاصۃً ۔