Shan e Ameer e Muawiya

Book Name:Shan e Ameer e Muawiya

ہے*یہ وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی آیات (یعنی نشانیوں) کا عالِم بنایا ہے *اس کے دِل میں نادِر و نایاب عِلْم کے موتی رکھ دئیے گئے ہیں *یہ پسندیدہ بندہ ہے *یہ مَقْبول ہے *اللہ پاک نے اسے ہدایت عطا فرمائی *اللہ پاک نے اسے اپنے قُرب میں ترقی عطا فرمائی *عِلْم کے لیے اس کا سینہ کھول دیا *اسے نیکی کی دعوت دینے والا *عذابات سے ڈرانے والا بنایا *یہ انبیائے کرام علیہم السَّلام کا سچّا نائب ہے۔([1])

اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم   صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم    نے حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے حق میں چند لفظوں کی دُعا فرمائی اور انہی چند لفظوں میں کیسے کیسے فضائل مانگ لیے...!   سُبْحٰنَ اللہ !

انہیں دُعا نبی نے دی مہدی اور ھادی کی  ہر ایک شک سے دُور ہے، ہدایتِ معاویہ

حضرت امیر معاویہ اور محبتِ اَہْلِ بیت

امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی امامِ حَسَن  رَضِیَ اللہ عنہ  سے محبّت

حضرت اِبْنِ بُرَیدہ  رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ایک مرتبہ امام حَسن مجتبیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  حضرت امیرمعاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے پاس تشریف لائے، حضرت امیر مُعاوِیہ  رَضِیَ اللہ عنہ  نے امامِ حسن مجتبیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  سے کہا: آج میں آپ کو وہ نذرانہ پیش کروں گا، جو کبھی کسی نے دوسرے کو نہ کیا ہو گا۔ پھر حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللہ عنہ  نے 4 لاکھ دِرْہم  پیش فرمائے۔([2])

حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  لکھتے ہیں: ایک بارحضرت امیر مُعاوِیہ


 

 



[1]...شرح فُتُوح الغیب، صفحہ:353۔

[2]...سیر اعلام النبلاء،رقم:247،  معاویہ بن ابی سفیان...الخ، جلد:4، صفحہ:309۔