Maut Ka Aakhri Qasid

Book Name:Maut Ka Aakhri Qasid

قادری رضوی  دَامَت بَرَکاتہمُ الْعَالِیَہ  ہمیں سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمارے ہاں قبرِستان کی حاضِری عُموماً رسمی طور پر(Formality) ہوتی ہے ۔ قبرِستان جانا اچّھی بات ہے  لیکن اس سے عِبرت بھی حاصِل کی جائے اور اپنی موت کو بھی یاد کیا جائے  کیونکہ قبرِستان کی حاضِری کا اصل مقصد(Purpose) یہی ہے ۔ حدیثِ پاک میں اِس طرح کا مضمون موجود ہے کہ پہلے میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، اب اِجازت(Permission) دیتا ہوں کہ جاؤ اورقبروں کی زیارت کرو کہ قبروں کو دیکھنا دلوں کو نرم کرتا اور آنکھوں میں آنسو لاتاہے۔([1])

 قبرِستان جا کر اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے ، لیکن افسوس! اب تو قبرِستان میں لڑائی جھگڑے (Fights)بھی ہو رہے ہوتے ہیں ۔ لوگ  قبرِستان میں کھاپی رہے ہوتے اور مذاق مسخری کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ اِس طرح عِبرت حاصِل کرنی چاہئے کہ*  جیسے آج یہ قبروں میں پڑے ہیں، کل میں بھی پڑا ہوا ہوں گا* یہ جو مٹّی کے تَودے (Lumps of Soil)نظر آ رہے ہیں، اِن میں ایک اور تَودے کا اِضافہ ہو جائے گا*ٹوٹی پھوٹی قبروں کو دیکھ کر سوچے کہ کیسے کیسے حسینوں کی یہاں مٹّی پلید ہو رہی ہے * میرے اعمال تو ایسے ہیں، اگر رَبّ ناراض ہو گیا تو قبر میں نہ جانے کیا بنے گا! * پھر اپنی لاش (Dead body) کو تصوّر میں لائے ، لاش کے پھٹنے ، آنکھوں کے بہنے ، دانتوں کے نکلنے اور بالوں کے جھڑنے کو یاد کرے ، یوں اپنی بے بسی(Helplessness) کا تصوّر کرکے عِبرت حاصل کرے ۔ اللہ کریم ہمیں عِبرت حاصل کرنے اور عِبرت قبول کرنے


 

 



[1]... مسندِ امام احمد،جلد:5 ،صفحہ:689 ،حدیث:13835ملتقطًا۔