Share this link via
Personality Websites!
414824
6519
کیے اُن کی تعریف ہو ایسوں کو ہر گز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے : اس آیت میں اس کے لئے وعید ہے جو حُبِّ جاہ یعنی عزّت ، تعریف اور شُہرت کے حُصُول کی تمنا میں مبتلا ہیں ، جو چاہتا ہے کہ لوگ میرے شیدائی ہوں ، ہر زبان میری تعریف میں تَر ہو ، سب میرے کمالات کا اعتراف کریں ، مجھے ہر جگہ عزّت سے نوازا جائے ، میں عالِم نہیں ہوں ، پھر بھی مجھے علّامہ صاحِب کہا جائے ، مجھے ملک و قوم کا خدمت گزار ، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، لوگ جھک کر مجھے سلام کریں ، میرا تعارُف ( Introduction ) بہترین القاب کے ساتھ ہو ، ایسے شخص کو چاہئے کہ اپنے دِل پر غور کر لے ، کہیں وہ حُبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا ، اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق حاصِل کرے اور فوراً حُبِّ جاہ کی آفت سے چھٹکارے کی کوشش کرے۔ یاد رکھئے ! حُبّ جاہ کا مریض اُخْروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے ، اس کے سبب دِل میں منافقت بڑھتی ہے ، ایسا شخص دِل کی نورانیت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے دِین میں خرابی آجاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسا شخص ذِلّت و رسوائی ، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اِخْلاص سے محرومی کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔ ( [1] )
حضرت جُنْدُب رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسولِ رحمت ، شفیعِ امّت صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے
[1]...تفسیر صراط الجنان ، پارہ : 4 ، سورۂ آلِ عمران ، تحت الآیۃ : 188 ، جلد : 2 ، صفحہ : 116-117 بتغیر قلیل ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami