Share this link via
Personality Websites!
خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جو اللہ پاک کی عبادت اور اس کی وحدانیت بیان کرتا رہتا ہے۔ جب وہ آدمی مرنے کے بعد اپنی قبر میں پہنچتا ہے تو وہ فرشتہ اُس کے پاس آ کر کہتا ہے : کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ آدمی کہتا ہے : تم کون ہو ؟ وہ کہتا ہے : میں وہ خوشی ہوں جو تُو نے فُلاں بندے کے دل میں داخل کی تھی اور آج میں تیرا دل بہلا کر پریشانی دُور کروں گا ، میں تجھے تیری حجت یاد دلاؤں گا ، میں نکیرین ( قبر میں سوالات کرنے والے فرشتوں ) کے جواب میں تجھے حق پر ثابت قدم رکھوں گا ، میں قیامت کے دن تیرے ساتھ ہوں گا ، ربِّ کریم کی بارگاہ میں تیری شفاعت کروں گا اور جنت میں تیرا مقام دکھاؤں گا۔ ( [1] )
شیخِ طریقت ، اَمِیرِ اہل ِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دِ ل میں اُمّتِ مُسلمہ کی خیرخواہی کا کیسا پیارا جذبہ ہے اور کتنی پیاری دعا کرتے ہیں کہ
اُمّتِ محبوب کا یا ربّ بنا دے خیر خواہ نفس کی خاطر کسی سے دل میں میرے ہو نہ بیر ( [2] )
وضاحت : امیرِ اہل سنت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس شعر میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ پاک! مجھے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امّت کا خیر خواہ بنا دے ، نفس کی خاطر میرے دل میں کسی کے لئے بھی دشمنی نہ ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! یوں تو ماہِ محرّ مُ الحرام مکمل ہی رحمتوں اور برکتوں بھرا ہے مگر بالخصوص اس ماہ کا دسواں دن جسے عاشورا کہتے ہیں ، اس کی شان و عظمت کے کیا کہنے * یہ دن پچھلی اُمتوں میں بھی بڑا مکرم و محترم رہا ہے * تاریخ اس دن کےاہم واقعات سے بھری ہوئی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami