Share this link via
Personality Websites!
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی مسجدوں کو پاک وصاف رکھنا چاہیے کہ مسجد کی صَفائی کرنے والا اللہ پاک کامحبوب ہوتاہے ، حدیثِ پاک میں ہے : ’’ مَنْ اَلِفَ الْمَسجد اَ لِفَهُ اللهُ جو مسجد سے مَحَبَّت کرتا ہے ، اللہ پاک اسے اپنا محبوب بنا لیتاہے ۔ ‘‘ ( مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، باب لزوم المساجد ، رقم ۲۰۳۱ ، ج ۲ ، ص ۱۳۵ ) مسجدکی صفائی کرنے والےاور اس میں رہ کر اللہ پاک کی عِبادت ورِیاضت کرنے والے بڑے ہی خُوش نصیب ہیں ۔ یقیناً مسجداللہ پاک کی بہت ہی پیاری نعمت اور شیطان کے حملوں سے بچنے کیلئے بہت زَبَردَسْت رُکاوٹ ہے جیساکہ حضرتِ عبدُ الرّحمٰن بن مَعْقِل رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : ہم سے بیان کیا جاتا تھاکہ اَلْمَسْجِدُ حِصْنٌ حَصِینٌ مِّنَ الشَّیْطٰن یعنی مسجد شیطان سے بچنے کے لیے ایک مضبوط قَلعہ ( قَل۔ عَہ ) ہے۔ ( مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ رقم ۴ ، ج۸ ص۱۷۲ )
مگرافسوس صَدکروڑافسوس!فِی زَمانہ شیطان کے شَرسے بچنے کیلئے مَساجد میں عِبادت وتلاوت کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں ، بلکہ اب تو مَعَاذَ اللہ مسلمانوں کی حالت اس قَدَر اَبتَر ( یعنی بُری ) ہوتی جا رہی ہےکہ نماز کے اَوْقات میں مسجدیں ویران نظرآتی ہیں ، جبکہ چوک ، بازار ، سنیما گھراورتَفْرِیْحی مَقامات پرجَمِ غَفیر ( یعنی بہت رَش ) دکھائی دیتا ہے۔ مُؤذِّن دن میں پانچ ( 5 ) مرتبہ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ( آؤ فلاح کی طرف ) کی صَدالگاکر مسجد میں آنے کی دعوت دیتا ہے ، مگر بدقسمتی سے ہم اس حاضری سے محروم رہتے ہیں۔ لہٰذا مسجدوں کی ویرانی پرخُوب دل جَلایئے ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ اسلامی بھائیوں کے72 نیک اعمال میں سے نیک عمل نمبر2پر عمل کی اچھی نیّت سے اپنے گھر والوں ، پڑوسیوں اوررِشْتہ داروں کونمازکی ترغیب دِلاکرمسجدمیں لائیے ، زورو شور سے ’’ مسجد بھروتحریک ‘‘ چلایئے اورایک ایک بے نمازی پراِنْفرادی کوشش کر کے اسے نمازی بنایئے اور یُوں اپنی مَساجد کا تَحَفُّظ بھی فرمایئے کہ جومکان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami