Share this link via
Personality Websites!
بَرِّصغیر پاک وہند پر انگریزوں کی حکومت تھی ، بِرٹش گورنمنٹ کی طرف سے لارڈ کَرْزَن ہند کا وائِس رائے تھا ، یہ ایک روز اجمیر شریف حاضِر ہوا ، دربارِ خواجہ پر اس نے عجیب منظر دیکھا ، امیر وغریب ، شاہ وگدا سب بارگاہِ خواجہ میں عقیدت سے گردن جھکائے ہیں ، یہ منظر دیکھ کر اس نے اپنی حکومت کو خط لکھا اور اس میں تاریخی جملہ کہا ، لکھا : “ میں نے ہند میں ایک قبر کو شہنشاہی کرتے دیکھا ہے۔ “ ([1])
دیکھو تو سخاوت میں کیا شان ہے خواجہ کی کھاتے ہیں شہنشاہ بھی ٹکڑا میرے خواجہ کا
نظروں میں نہیں بھائی ، کونین کی سلطانی شاہوں سے بھی افضل ہے ، منگتا میرے خواجہ کا
خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی غریب نوازیاں
پیارے اسلامی بھائیو! خِدْمَتِ خَلْق (social welfare) عظیم نیکی ہے۔ ماشَآءَ اللہ! خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ بچپن ہی سے دوسروں کے کام آنے والے ، دُکھ بانٹنے والے ، مسکینوں ، غریبوں ، فقیروں کے ساتھ بھلائی کرنے والے ، ان کی دِل جُوئی کرنے والے تھے۔
بعض مؤرِّخِیْن (عِلْمِ تاریخ کے ماہِرین) نے لکھا ہے کہ بچپن میں جب خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ دُودھ پینے کی عمر میں تھے ، ایک روز آپ والدہ محترمہ کی گود میں دودھ نوش فرما رہے تھے ، اتنے میں ایک غریب عورت آئی ، اس کی گود میں ایک ننھا سا بچہ تھا جو بھوک کے سبب زار وقطار رَو رہا تھا ، بچے کو روتا دیکھ کر خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی والِدہ محترمہ نے عورت کو کہا : تمہارا بچہ بھوکا ہے ، اسے دُودھ کیوں نہیں پلاتی؟ یہ سُن کر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami