Achi Aur Buri Lalach

Book Name:Achi Aur Buri Lalach

یہ آیت ابنِ آدم کےانتہائی لالچی اوربخیل ہونےپردلیل ہے ، ابن ِآدم اس پرندےسےبھی زیادہ  بخیل اور لالچی ہےجوساحلِ سمندرپراس خوف سےپیاسا مر جاتاہے کہ کہیں پانی پینے سے پانی ختم  نہ ہو جائے اور اس کیڑے سے بھی زِیادہ  بخیل اور لالچی ہے جس کی خوراک مٹی ہے لیکن وہ اس خوف سے بھوکا مر جاتا ہے کہ کہیں کھانے سے مٹی ختم نہ ہو جائے ۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو!مال کی حرص وہ بُری حرص ہے کہ اللہ پاک نے قرآن ِ کریم میں بہت سی آیات میں اس سے بچنے اور مال کی  حرص کی مذمت بیان فرمائی ، کہیں فرمایا : اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ پاک کے ذکر سے غافل نہ کرے ۔ کہیں فرمایا : مال تمہارے لیے فتنہ ہے۔ کہیں فرمایا : جو دنیا کی آرائش چاہتا ہے ہم دنیامیں اسے پورا پھل دیں گے۔ مال سے محبت کرنے والے کے بارے میں فرمایا : بے شک وہ مال کی محبت میں  ضرور بہت شدید ہے ، مگر اللہ پاک کی نعمتوں کے شکر اور اس کے ذکر سے غافل ہے۔

حضورنبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمختلف مواقع پر مال کی مذمت کے بارے میں فرمایا : مال کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیداکرتی ہےجیسے پانی سبزی اُگاتا ہے۔ زیادہ مال ہلاک کرنے والا اور اپنے مالک کو بُرے لوگوں میں شامل کردیتا ہے ۔ مال آخرت کے لیے وبال کاباعث ہے۔ مال اور مرتبہ کی حرص انسان کے دین کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے جو دو بھوکے بھیڑیےبکریوں کے ریوڑ کو پہنچاتے ہیں ۔ ([2])


 

 



[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، الفصل الاول ، ۹ / ۱۲۴ ، تحت الحدیث : ۵۲۷۳

[2] ترمذی ، کتاب الزھد عن رسول اللہ ، ۴ / ۱۶۶ ، حدیث : ۲۳۸۳