Book Name:Achi Aur Buri Lalach
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارےپیارے اسلامی بھائیو! انسان میں جن چیزوں کی حرص پائی جاتی ہے ، ان میں سے کچھ باعثِ ثواب ہوتی ہیں تو کچھ باعثِ عذاب اورکچھ محض جائزہوتی ہیں ، جن پر کوئی ثواب و عذاب یا پکڑ نہیں ۔ لیکن یہی جائز کام اگر کوئی اچھی نیت سے کرے تو وہ ثواب کا حق دار اور اگر بُرے اِرادے سے کرے تو عذابِ نار کا حق دار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح حرص بھی تین طرح کی ہے : (1)…اچھی حرص(2)…بُری حرص (3)…جائز حرص لیکن اگر اس حِرْص میں اچھی نیت ہوگی تویہ حرص محمود(یعنی اچھی) بن جائے گی اور اگر بُری نیت ہوگی تو مَذمُوم(یعنی بُری) ہو جائے گی۔ ([1])
اگر اللہ پاک کی رَحمت اور اُس کی توفیق سے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، صدقہ و خیرات ، تلاوت ، ذکرُ اللہ ، دُرُودِ پاک ، حُصولِ علمِ دین ، صِلۂ رِحمی ، خیرخواہی اور نیکی کی دعوت عام کرنے اور دیگر نیکیوں کی حرص ہو تو یہ حرص محمود(یعنی اچھی) ہے۔ اگر کھانے پینے ، زیادہ سونے ، حلال مال اِکٹھا کرنے ، اپنا اچھا مکان بنانے ، تحائف ملنے عمدہ لباس پہننے اور دیگر ایسے کاموں کی حرص ہو تو یہ حرص مباح(یعنی جائز) ہے۔
اگر خدانخواستہ نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر رشوت ، چوری ، بدنگاہی ، بدکاری ، اَمْرَد پسندی ، واہ واہ کی شہرت ، فلمیں ڈرامے دیکھنے ، گانےباجےسننے ، نشے ، جُوئے کی حرص ، غیبت ، تُہمت ، چُغلی ، گالی دینے ، بدگمانی ، لوگوں کےعیب ڈھونڈنےاور