Book Name:Achi Aur Buri Lalach
روک دیتے پھران آیات پر عمل کی وجہ سے اسے بلند مرتبہ عطا فرما کر اَبرار کے درجات میں پہنچا دیتے ، لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اس نے دنیا اور اس کی لذتوں کو آخرت اور اس کی نعمتوں پر ترجیح دینے میں اپنی خواہش کی پیروی کی۔ ([1])
بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کی لالچ کی سزا اللہپاک نے ایسی دی کہ اس کی حالت کتے کی حالت کی طرح کردی چنانچہ
پارہ9سُوْرۃُ الاَعْرَاف کی آیت نمبر176 میں ارشاد ہوتاہے :
وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُۚ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِۚ-اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْؕ- (پ۹ ، الاعراف : ۱۷۶)
ترجمۂ کنز العرفان : اور اگر ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے بلند مرتبہ کر دیتے مگر وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوگیا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پرسختی کرے تو زبان نکالے اور تو اسے چھوڑ دے تو(بھی) زبان نکالے ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اس آیت میںبَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاءکاحال بیان ہوا ، یہ شخص فضل و کمال کے اس مرتبے پر پہنچا ہوا تھا کہ گزشتہ کتابوں کا عالم تھا ، اللہ پاک کا اسمِ اعظم اسےمعلوم تھا ، جودعا مانگتا وہ قبول ہوتی ، اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھےعرش کودیکھ
[1]… قرطبی ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۷۶ ، ۴ / ۲۳۰ ، الجزء السابع ، مدارک ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۷۶ ، ص۳۹۵ ، ملتقطاً