Book Name:Achi Aur Buri Lalach
فقراءومساکین کی مددکرنےیااپنےقریبی رشتہ داروں کی مدد کرنےکے لیے کمائےیہ مستحب اور نفل عبادت سے افضل ہے۔ اس لیے کمانا کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزت ووقار میں اضافہ ہو گا ، فخر وتکبر کی نیت نہ ہو اتنا کمانا مباح ہے۔ اگرکمانے سے مقصد فقط مال کی کثرت یا فخر و تکبرہے تو منع ہے۔ ([1])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یقیناً حرص سے بچنا ناممکن کہ یہ انسان کے خمیر میں شامل ہے ، لیکن بُری حرص کو نیکی کی حرص میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔ بُری حرص سے بچنے کے لیے*بارگاہِ الٰہی میں حِرْص سے بچنےکی دعا کیجئے*حِرْصِ مال کے نقصانات پر غور کیجئے*صبر و قناعت اپنائیے*خواہشات کوکنٹرول کیجئے*اپنے ربِّ کریم پرحقیقی بھروسا اور اخراجات میں میانہ روی اختیار کیجئے * لمبی اُمیدیں نہ لگائیے*موت کو یاد کیجئے*میدانِ محشر میں مالداروں سے حساب کا تصور کیجئے * سخاوت کی عادت اپنائیے*مال کےحریصوں کےعبرت ناک انجام پر نظر رکھئے۔
پیارےپیارےاسلامی بھائیو!مال و دولت ، منصب و شہرت اور دیگر دنیاوی چیزوں کی بُری حرص سے بچ کرنیکیوں کا حریص بننابےحدضروری ہے ، سرکارِ ذی وقار ، مدینے کےتاجدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نیکیوں کا حریص بننے کی تاکید فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا : اس پرحرص کروجوتمہیں نفع دےاوراللہ پاک سےمددمانگو عاجز