Book Name:Achi Aur Buri Lalach
عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!لوگوں میں سب سےبہترین کون ہے؟ ارشاد فرمایا : جس کی عمر لمبی ہواورعمل نیک ہو۔ اس شخص نےپھرعرض کی : لوگوں میں سب سے بُرا کون ہے؟ ارشاد فرمایا : جس کی عمر لمبی اور عمل بُرا ہو۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے مال کی حرص اور لمبی زندگی کی حرص کے متعلق سُنا ، یاد رکھئے !ہر حِرْص بُری نہیں ہوتی بلکہ اچھی چیز کی حِرْص اچھی اور بُری کی حِرْص بُری ہوتی ہے ، مگر اچھائی یا بُرائی کی طرف جانا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ مال نہ تو مُطلَقاً بھلائی کی چیزہے نہ ہی صرف بُرائی کی چیز ، چنانچہ مال کمانے کی حِرْص بھی ہر صورت میں بُری نہیں ہے۔ جتنا کافی ہوجائے اس سے زیادہ مال کمانے کی حِرْص اس لئے رکھنا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد کرے گا تو یہ اچھی حرص ہے ، جبکہ دوسروں پر فخر جتانے کی نیت سے ایسا کرنا بُرا ہے۔ بہارِ شریعت جلد 3 حصہ16صفحہ609پرہےجس كا خلاصہ ہے : اتناکمانافرض ہے جو اپنے لیے ، اہل و عیال کےلیے یا جن کا خرچہ اس کے ذِمَّہ واجِب ہے ، ان پرخرچ کرنےکےلیے اور قرض وغیرہ ادا کرنےکے لیے کافی ہو ، اس کے علاوہ ماں باپ تنگ دست ہوں تو ان کے لیےاتنا کمانا جو انہیں کافی ہو یہ بھی فرض ہے۔ اس فرض کمائی کے بعد اسے اختیار ہے کہ اسی کو کافی سمجھےیا مزید کما کرکچھ مستقبل کے لیے بچا کر رکھے۔ مستحب کی صورت یہ ہے کہ اپنی ان حاجات کے علاوہ