Achi Aur Buri Lalach

Book Name:Achi Aur Buri Lalach

اپنے شاگردوں(Students)کو دنیاوی جاہ و منصب ، مال و متاع اور عہدوں کو ان کی منزل بتائیں گے تو وہ یقینی طور پر اپنی اسی منزل کی حرص رکھیں گے اور اس کو پانے کے لیے دن رات ایک کرکے اسی جانب بڑھنے کی کوشش کریں گے۔

اگران کوخوفِ خداکےبارےمیں بتائیں گے ، عشقِ مصطفےٰ کاجام پِلائیں گےتو یقیناً ان میں حرص بھی اسی چیز کی پیدا ہوگی جیسا کہ حضرت علامہ عبدُ الرحمن ابنِ جوزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میری سنجیدہ طبیعت ، مذہبی لگاؤ اور دین میں آگے بڑھنے  کی جستجو میں لگے رہنے کی وجہ میرے اساتذۂ کرام کا انداز تھا کہ ان میں سے اکثر زیادہ رونے والے ، رِقّتِ قلبی رکھنے والے تھےاور ایسی رِقّت تھی کہ جب وہ روتے تو بہت دیر تک روتے رہتے ، انہیں دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ایسا ہی جذبہ پیدا ہونے لگااور میں بھی اپنے دل میں رِقّت پاتا ہوں ۔ ([1])  

بُری حرص  پیدا ہونے کی ایک وجہ علمِ دین سے دوری بھی ہے کہ انسان جس چیز کاعلم نہیں رکھتا ، اُسے کرگزرتا ہے اوریوں گناہوں میں مبتلا ہوجاتاہے ۔ علم کی برکت سے انسان بہت سے گناہوں سے بچ کر نیکی کے کاموں میں مصروف ہوجاتاہے ۔

گناہوں کی حرص سے بچنے کےتین علاج

پیارےپیارے اسلامی بھائیو! ہم نے حرص و لالچ کے متعلق سُنا ، آئیے! بُری حرص کے3 علاج بھی سُنتے ہیں :

(1) گناہوں کی پہچان کیجئے۔ گناہوں کی پہچان حاصِل  کرنے اور ان کی سزائیں


 

 



[1]حفظ العمر ، مقدمہ ، ص9 ، دارالبشائر الاسلامیہ بیروت