Achi Aur Buri Lalach

Book Name:Achi Aur Buri Lalach

مگر اس کی زبان پر اس کی اپنی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا : اے بلعم!تم تو اُلٹی بددعا کررہے ہو!کہنے لگا : میں کیا کروں!میں بولتاوہی ہوں جو تم چاہتے ہومگر میری زبان سے نکلتا  کچھ اورہے!پھر اچانک اس پر غضب ِ الٰہی نازل ہوا اور اس کی زبان لٹک کر اس کے سینے پر آگئی۔ اس وَقْت  بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء نے اپنی قوم سے رو کر کہا : اَفْسَوس!میری دنیا و آخِرَت  دونوں تباہ و برباد ہو گئیں ، میرااِیمان  جاتا رہا اور میں قہرِ قہار و غَضَب ِ جبار میں گرفتار ہو گیاہوں۔ جاؤ! اب میری کوئی دُعا  قبول نہیں ہوسکتی۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد

بُری لالچ کا انجام

اس واقعہ کا ذِکْر پارہ9سُوْرۃُ الاَعْرَاف کی آیت نمبر175 میں ہے :

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ(۱۷۵)

۹ ، الاعراف : ۱۷۵)

ترجمۂ کنز العرفان : اور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تووہ آدمی گمراہوں میں سے ہوگیا۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے : یعنی اگر ہم چاہتے تو نافرمانی کرنے سے پہلے ہی اسے


 

 



[1] تفسیر صاوی ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۵۷۱ ، ۲ / ۷۲۷ملخصًّا