Achi Aur Buri Lalach

Book Name:Achi Aur Buri Lalach

صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خبر  دی تھی۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد

مولا علی کا ذوقِ عبادت

                             امیر المؤمنین حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ  کو کئی مرتبہ دیکھا  گیا کہ  جب رات کا اندھیرا چھارہا ہوتا ، ستارے ٹمٹمارہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزاں و ترساں اپنی داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر “ اے میرے رب ! اے میرے رب ! “ پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے : تُو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دُور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیری مصیبتیں جھیلنا آسان ہیں۔ آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور ہے۔ ([2])

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! واقعی اگر ہم اپنے اسلاف کی سیرت کو دیکھیں تو ان کی مبارک زندگیاں نیک اعمال کی حرص سے مالا مال ہیں۔ کسی کی راتیں تلاوتِ قرآن  میں گزرتیں تو کسی کی نوافل  کے قیام میں ، کوئی سجدے کی حالت میں ساری رات گزار دیتا توکوئی ربِّ کریم کے حضور دعا میں گِڑگِڑاتے ہوئے ، کوئی روز دن میں تو کوئی روز رات میں ایک قرآن ِ کریم کی تلاوت فرماتے تو کسی کی زندگی کا ایک حصہ دن


 

 



[1]  حرص ، ۲۹تا۳۱

[2]  حلية الاولیاء ، ذکر الصحابة  من المهاجرین ، ۱ / ۸۵