Book Name:Achi Aur Buri Lalach
انہیں اُچھالنے ودیگر گناہوں کی حِرْص ہو تو ایسی حرص مذموم(بُری)اور حرام و گناہ ہے۔
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!حرص کی تینوں قسمیں ہمارےسامنےہیں اب ہم غور کریں کہ ہمارے اندرکون سی حرص پائی جارہی ہے ، اس حرص کا رُخ موڑنا ہمارے اختیارمیں ہےکہ ہم اپنی حرص کا رُخ نیکی کےکاموں کی طرف موڑ دیں ، ہم نیکیوں کےحریص بن جائیں اور گناہوں کی مذموم اور بُری حرص کو بالکل ختم کر دیں کیونکہ بُری حرص آدمی کو تباہ و بربادکردیتی ہےجیسا کہ پیارےآقامدینےوالے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان ہے : لالچ سے بچو!کیونکہ یہ فوراً لاحق ہونے والا فَقْر ہے۔ ([1])
حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِوایَت ہے : پیارے نبی ، مکی مَدَنی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے : اگر ابنِ آدم کے پاس سونے (Gold)کی دو وادیاں(یعنی دوپہاڑوں کےدرمیان جوجگہ ہوتی ہے وہ )بھی ہوں تب بھی یہ تیسری کی خواہش کرے گا اورابنِ آدم کاپیٹ قبر کی مِٹی ہی بھر سکتی ہے۔ ([2])
علامہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی رَحْمَۃُاللّٰہِ عَلَیْہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں :