Book Name:Achi Aur Buri Lalach
حدیث کے معنیٰ یہ ہیں : انسان دنیا پر لالچی ہی رہے گا حتّٰی کہ اس کی موت آجائے اور اس کے پیٹ کو قَبْر کی مٹی ہی بھرے گی ([1])
حضرت علامہ علی قاری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی تنبیہہ ہے کہ انسان کی فِطرَت میں ایک ایسا بخل ہوتا ہے جو اسےلالچی بناتا ہے جیسا کہ ارشاد اِلٰہی ہے :
قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىٕنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠(۱۰۰)
(پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۱۰۰)
ترجمۂ کنز العرفان : اگر تم لوگ میرے رب کی رَحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو خرچ ہو جانے کے ڈر سے تم ( انہیں ) روک رکھتے اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔
قرآنِ کریم کی تفسیروں میں سے ایک مشہورتفسیر “ تفسیر ِکبیر “ میں ہے : یہاں انسان کو اس کی اصل کے اعتبار سے بڑ اکنجوس فرمایا گیا ہے کیونکہ انسان کو محتاج پیدا کیاگیا۔ محتاج انسان لازمی طورپر اسی چیزکو پسند کرتاہے اور اپنی ذات کےلیے روک لیتا ہےجس سے محتاجی دور ہوجائے ، جبکہ انسان کی سخاوت خارجی اَسبا ب کی وجہ سے ہوتی ہے جیسے اپنی تعریف پسند ہونایا ثواب ملنے کی اُمید ہونا۔ اس سے ثابت ہوا! انسان اپنی اصل کے اعتبار سے بخیل ہے۔([2])