Book Name:Achi Aur Buri Lalach
کو برداشت کرنے کا حوصلہ پانے کے لئے اور دیگر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکو اپنا آئیڈیل بنالیں کیونکہ ان پاکیزہ ہستیوں کی زندگیاں یقیناً ہمارے لئے راہ نما اُصول ہیں ۔ ([1])
آئیے ترغیب کے لئے چند واقعات سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہسےروایت ہے : ہم بے کسوں کے مددگار ، مدینے کےتاجدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا : آج تم میں سےکس نے روزہ رکھا؟امیر المؤمنین حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نےعَرْض کی : “ میں نے “ پھرپوچھا : آج تم میں سےکس نے جنازے میں شرکت کی؟تو آپ نے عَرْض کی : “ میں نے “ پھر پوچھا : آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟عَرْض کی : “ میں نے “ اِرشاد فرمایا : آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی؟عَرْض کی : “ میں نے “ تو دو عالَم کے شَہَنشاہ ، اُمّت کےخیرخواہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : جس کسی میں یہ عادتیں جمع ہوجائیں وہ جنت میں داخِل ہوگا۔ ([2])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سُبْحٰنَ اللہ!امیرالمؤمنین حضرت صدیق ِ اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہکس قدر نیکیوں کےحریص تھے ، اللہ پاک ان کےصدقے ہمیں بھی یہ جذبہ نصیب فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد