Share this link via
Personality Websites!
گزاری اور پرہیزگاری کے باوجود جباللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو خود کو گناہگاروں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کو شمار نہیں کرتے اور اپنے احوال پر بھروسا نہیں کرتے۔
(روح البیان ، الفرقان ، تحت الآیة : ۶۴ ، ۶ / ۲۴۲-صراط الجنان ۷ / ۵۶)
حضرت اَنَس بن مَالِک رَضِیَاللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں : رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو اللہ پاک سے تین بار جنت مانگے تو جنت کہتی ہے : الٰہی اسے جنت میں داخل فرمادے اور جو تین بار جہنم سے پناہ مانگے توجہنم کہتی ہے : الٰہی اسے آگ سے امان دے دے۔ (جامع الترمذی ، ۴ / ۲۵۷ ، حدیث۲۵۸۱)
حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو روزانہ صبح و شام یا دن میں ایک بار یا عمر میں ایک بار تین دفعہ یہ کہے : اَللّٰھُمَّ ادْخِلْنِی الْجَنَّۃَ(اےاللہ پاک مجھے جنت میں داخلہ عطا فرما) اورتین دفعہ یہ کہہ لے : اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ(اےاللہ پاک مجھے جہنم سے بچا)تو خود جنت اس کے لیے داخلہ کی دعا کرے گی اور خود دوزخ اپنے سے پناہ کی بارگاہ الٰہی میں عرض کرے گی۔ (مراۃ المناجیح ۴ / ۶۷)
حضرت مِسعَر رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں : حضرت عَبدُ الاعلیٰ تیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فرمایا : جنت اور دوزخ انسانوں کی جانب متوجہ ہیں ، جب کوئی بندہ جنت کا سُوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ پاک!اسے مجھ میں داخل فرما اور جب بندہ دوزخ سے بچنے کا سُوال کرتا ہے تو وہ کہتی ہے : اے اللہ پاک!اس کو مجھ سے بچا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami