Share this link via
Personality Websites!
کو پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں آئیےاس کی برکتوں کو لیتے ہوئے سنتے ہیں کہ اللہ پاک کے پیارے کلام میں جہنم کے بارے میں کیا ارشاد ہے ۔
پارہ 16 ، سورۂ مریم کی آیت نمبر71 میںاللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) (پ١٦ ، مريم : ٧١)
ترجمۂ کنز الایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے ربّ کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔
حضرت قَتادَہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہم سے روایت ہے کہ جہنم پرواقعہ ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو کہ جہنم کے اوپر بچھایا گیا ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو ! پل صراط جس سے ہرایک نے گزرنا ہے آئیے اس کے بارے میں سنتے ہیں : حضرتِ فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے منقول ہے : پُل صراط کاسفر پندرہ ہزار سال کی راہ ہے ، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے ، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال اس کی پشت پرچلنے کے۔ اور اس پر سے وہ گزرسکے گا جو خوفِ خدا کے باعث کمزور ہوگا۔ ([2])
اب سنئے کہ پل صراط کیسا ہوگا اور اس پر سے گزرنے والوں کی کیا کیفیت ہوگی ؟
دوعالم کے داتا ، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ پل صراط پھسلنے کی جگہ ہوگی ، اس پربہت چوڑے چوڑے ایسے کانٹے ہوں گے جو مڑے ہوئے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami