Share this link via
Personality Websites!
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے اور حفظ جاں توجان فروض غررکی ہے
ہاں تونے ان کو جان انھیں پھیر دی نماز پر وہ تو کرچکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہو ا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
اشعار کی مختصر وضاحت! یارسول اللہ! ہجرت کی رات غارِ ثور میں حضرتِ صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے آپ کی حفاظت کی خاطر غار کے سوراخ سے سانپ کے کاٹنے کی تکلیف برداشت کی گویا اپنی جان دے دی حالانکہ جان کی حفاظت کرنا تمام فرائض پر مقدم ہے اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے آپ کی نیند کی خاطر اپنی عصر کی نماز کاوقت ختم کرلیا جبکہ عصر کی نماز سب نمازوں سے افضل ہونے کا درجہ رکھتی ہےمگر انہوں نے وہ بھی آپ پر قربان کردی۔ انہوں نے وہ کردیا جس کی انسان قدرت رکھتا ہے مگردوعالم کے داتا ، مالک و مختارآقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت کی بلندی ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو جان واپس کردی کہ لعابِ دہن سے سانپ کے زہر کو ختم کردیا اورحضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی قضا نماز سورج واپس کرکے نماز ادا کروادی ۔ ان دونوں واقعات سے یہ ثابت ہوا کہ تمام فرائض شاخوں کی مثل ہیں اور حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت و فرمانبرداری تمام فرائض کی بنیاد ہے ، جڑ ہے اور جڑ ہے توشاخیں ہری ہیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعابِ دہن سے صرف صدیقِ اکبر ہی فیض یاب نہیں ہوئے بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لعابِ دہن کی برکات سے دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہمُ الرِّضوان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami