Book Name:Madinah Kay Fazail Ma Yaad-e-Madinah

(1)اِرْشاد فرمایا:مسجِدقُبا میں نَماز پڑھنا”عُمرے“کے برابر ہے۔                        (ترمذی،۱/۳۴۸،حدیث:۳۲۴)

(2)ارشادفرمایا:جس شخص نے اپنے گھر میں وُضو کیا پھر مسجِدِ قُبا میں جا کر نَماز پڑھی تو اُسے ”عمرے“کا ثواب ملے گا۔(ابنِ ماجہ،۲ /۱۷۵،حدیث:۱۴۱۲)

(2)مسجدِ غَمامہ

مکے شریف یا جَدَّہ شریف سے جب مدینے شریف آتےہیں تو مسجِدِنَبَوِی شریف آنے سے پہلے اُونچے گنبدوں والی ایک نہایت ہی خوب صورت مسجِد آتی ہے یِہی’’مسجدِغَمامہ‘‘ہے۔ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے2ہجری میں پہلی بار عِیْدُالْفِطْر اورعِیْدُالاَضْحٰی کی نَماز اِس مَقام پرکُھلے میدان میں ادا فرمائی۔یَہیں آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بارِش(Rain)کےلئے دُعا فرمائی،دُعا فرماتے ہی بادَل آئے اور بارِش برسنی شُروع ہوگئی۔’’بادَل‘‘کو عَرَبی زَبان میں غَمَامَہ کہتے ہیں،اِسی نِسبَت سے اِسے اب”مسجدِغَمامہ“کہتے ہیں۔یہاں کُھلا میدان تھا،پہلی صدی کے مجدِّد،امیرُالْمُؤمنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر بن عبدُالعزیز رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نے یہاں مسجِد تعمیر کروائی۔

آئیے!اب چند مزید مُقَدَّس مقامات کے بارے میں سُنتے ہیں،چنانچہ

(3)جنّت کی کیاری

       مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےحُجرۂ مُبارَکہ(جس میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مزارِ انور ہے)اورنُورانی مِنبر(جہاں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خُطبہ اِرشادفرمایاکرتےتھے)کادرمِیانی حصَّہ جس کی لمبائی22مِیٹراورچوڑائی15میٹرہے’’جنَّت کی کیاری“ہے، چُنانچِہ

       پیارےآقا صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عالیشان ہے:مَابَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ