Book Name:Hasad ki Tabahkariyan aur Ilaj

’’لِسانُ الْعَرَب‘‘ جلد3صفحہ 166پر حَسَد کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے :’’اَلْحَسَدُ اَنْ تَتَمَنّٰی زَوَالَ نِعْمَۃِ الْمَحْسُوْدِ اِلَیْک۔‘‘یعنی حَسَد یہ ہے کہ تُو تمنّا کرے کہ مَحْسُود کی نعمت اُس سے زائل ہو کر تجھے مل جائے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے حَسَد کرنے والے کو حاسِداورجس سے حَسَد کیا جائے اُس کو مَحْسُود کہتے ہیں۔

حسد کی تعریف کا آسان لفظوں میں خُلاصہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ تعریف سے مَعلوم ہوا کہ کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر تمنّا کرنا کہ کاش ! اِس سے یہ نعمت چِھن کر مجھے حاصِل ہو جائے۔ مَثَلاً کسی کی شہرت یا عزّت سے نَفْرت کا جَذبہ رکھتے ہوئے خواہِش کرنا کہ یہ کسی طرح ذَلیل ہو جائے اوراس کی جگہ مجھے عزّت کا مقام حاصِل ہو جائے، نیز کسی مالدار سے جَل کر یہ تمنّا کرنا کہ اِس کا کسی طرح نُقْصان ہو جائے اور یہ غریب ہو جائے اور میں اس کی جگہ پر دولت مند بن جاؤں، یہ حسد کہلاتا ہے ۔البتّہ غِبْطہ یعنی رَشک کرنا جائز ہے کہ  کوئی یہ تمنّا کرے کہ یہ نعمت اوروں کے پاس بھی رہے ،مجھے بھی مل جائے یعنی اوروں کا زَوال نہیں چاہتا، اپنی تَرقّی کا خواہش مند ہے اسے غِبْطَہ (یعنی رشک)یا تَنافُس (یعنی للچانا)کہتے ہیں۔(تفسیرِ کبیرج١،ص٦٤٩ ملخصًا )(تفسیرتفسیرِ نعیمی  ج۱،ص ۶۱۴)

یادرکھئے حَسَداوراس  کے سبب جُھوٹ، غیبت ،چُغلی، آبروریزی جیسے گُناہوں کا ارتکاب  یقیناًحرام اورجَہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   حَسد کرنے والوں کی مَذمّت بیان کرتےہوئے پارہ 1سُورَۃ ُالۡبَقَرَہ کی آیت نمبر 109 میں اِرْشاد فرماتا ہے :

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ

تَرْجَمَۂ کنزالایمان:بہت کتابیوں نے چاہا کاش