حدیث شریف اور اس کی شرح

بات ماننے کا شرعی معیار

* مولاناسيدنعمان عطاری مدنی

ماہنامہ فروری 2022

اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : “ اِنَّمَا الطَّاعَةُ فِى الْمَعْرُوف یعنی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہی ہے۔ “ [1]

یعنی جن کاموں کو شارع نے پسند فرمایااوراچھا قرار دیا ہے صرف انہی باتوں میں اطاعت کی جائے۔ [2]

بے شک اللہ پاک ہمارا ربّ اور تمام کائنات(Whole Universe) کا خالق ہے کہ اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کائنات کی تمام چیزوں کو پیدا فرمایا ہے۔ نیکی کرنے کی طاقت اور بُرائی سے بچنے کی توفیق بھی اسی کی عطا سے ہے اورکسی کام کا حکم دینا یا اس سے منع کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور وہی اپنے بندوں کو اپنی اور پیارے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ، جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ہے : (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ) ترجَمۂ کنزُالایمان : اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔ [3]  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اس آیت میں اللہ پاک نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اطاعت کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔

بات ماننے کا اصول : چونکہ نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنی امت پر بے حد مہربان اور شفقت فرمانے والے ہیں اور اپنی امت کو ہر ہر موقع پر ہدایت فرمانے والے بھی ہیں تو اسی مناسبت سے آپ نے امت کی تعلیم اور ان کی راہنمائی کے لئے ایک اصول یہ بھی مقرر فرمایا کہ “ الطَّاعَةُ فِى الْمَعْرُوف “ یعنی کسی کی بات ماننی ہوتو صرف نیکی کے کاموں میں ہی مانی جائے برائی کےکاموں میں ہرگزکسی کی بات نہ مانی جائے کہ “ لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقٍیعنی مخلوق کی اطاعت میں خالق یعنی اللہ پاک کی نافرمانی کرنا جائز نہیں ہے۔ “ [4]

ہم کس کی بات پر عمل کریں؟عموماً زندگی میں لوگوں کے آپس میں کچھ ایسے روابط بھی ہوتے ہیں جن میں وہ ایک دوسرے کی باتوں کو سرِ تسلیم خم کرکے مانتے بھی ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں مثلاً

(1)اولاد ، والدین کی ہر بات ماننے کی پابند ہے اور مانتی بھی ہے مگر والدین جھوٹ بولنے ، کسی کا دل دکھانے ، حرام کمانے ، چوری کرنے ، ڈاکہ ڈالنے ، رشوت لینے ، چغلی لگانے ، داڑھی منڈوانے ، شرعی پردہ نہ کرنے وغیرہ جیسےغیرشرعی کاموں کا حکم دیں تو اُن کی بات نہیں مانی جائے گی۔

(2) انتظامی طور پرطلبہ ٹیچرز کی بات ماننے کے پابند ہیں مگر کوئی بھی ٹیچر طلبہ کو کسی کا مذاق اُڑانے ، چیٹنگ کرنے یا کروانے ، کسی پر جھوٹا الزام لگانے اور اُسے بدنام کرنے ، بےحیائی پر مشتمل کوئی کام کرنے وغیرہ جیسے گناہوں بھرے کاموں کا حکم دے تو اُس کی بات ہرگز ہرگز نہیں مانی جائے گی۔

(3)ملازمین اور ورکرز اپنے سپر وائزرز اور مالکوں کی بات ماننے کے پابند ہیں مگر سیٹھ یا سپر وائزر فرض نَماز اور رَمَضان کا روزہ چھوڑنے ، کسی کو تکلیف دینے کیلئے کوئی شرارت کرنے ، کسی کو نوکری سے نکلوانے کے لئے سازش کرنے وغیرہ جیسے غیرشرعی آرڈرز دیں تویہ نہیں مانے جائیں گے۔

(4)چھوٹے (یعنی چھوٹے بھائی بہن ، بھتیجا بھتیجی ، بھانجا بھانجی ، پوتا پوتی ، نواسہ نواسی وغیرہ) کو بڑوں (بڑےبھائی بہن ، دادا دادی ، نانا نانی ، چچا ، ماموں ، خالہ وغیرہ) کی بات نہ ماننا بے ادبی ہے مگر کسی سے تعلق توڑنے ، کسی کی چیز اجازت کے بغیر اُٹھا لانے وغیرہ جیسی باتوں کا کہیں تواِن کی بات ماننا چھوٹوں پر لازم نہیں۔

(5)گھر کا امن و امان برقرار رکھنے کے لئے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی بات ماننی چاہئے مگر شوہر بےپردگی یا اور کسی غیر شرعی بات کا حکم دے یوں ہی بیوی شوہر کو ساس سُسر کی نافرمانی کرنے ، دل دُکھانے یا ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کرنے وغیرہ کاموں کا کہے تو یہ باتیں نہیں مانی جائیں گی بلکہ شوہر و بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کی وہی بات مانیں جو جائز ہو اور شرعاً دُرست بھی ہو۔

(6)دنیا میں اکثر لوگ کسی نا کسی لیڈر کو فالو کرتے ہیں اور اگر لیڈر کسی بات کا حکم دے تو اس کے کارکنان اس کے حکم پر دل و جان سے عمل کرتے ہیں ، لہٰذا اگر کوئی لیڈر اپنے کارکنان کو ایسی بات کا حکم دے جس سے ملک و قوم کا نقصان اور لوگوں کی جان و مال کا ضِیاع ہو تو اپنے لیڈر کی ایسی کوئی بھی بات ہرگز ہرگز نہیں مانی جائے گی۔

(7)یونہی قوم بھی اپنے حکمرانوں کی بات  مانتی ہے لیکن اگر حکمران قوم کو اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنے اور اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے ، دینِ اسلام سے دور ہونے ، مسجدیں بند رکھنے ، سود و رشوت وغیرہ کا لین دین کرنے ، حرام و حلال کے درمیان فرق ختم کرنے ، عدل و انصاف ختم کرنے ، گناہوں والے کام عام کرنے اور نیکیوں والے کاموں سے دور رہنے کا حکم دیں تو شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے کسی بھی حکم پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

(8)بعض اوقات دوستی یاری میں بہت سے لوگ اپنے دوستوں کی باتیں مان کر بہت سے گناہوں میں پڑجاتے ہیں اور دوست جو بات کہے فوراً آنکھیں بند کرکے مان لی جاتی ہے۔ اور چونکہ انسان کے اچھے یا بُرے بننے کا اِنحصار زیادہ تر دوستوں پر ہوتا ہے کہ اگر دوست اچھے ہوں تو وہ بھی اچھا بنتا ہے اور اگر دوست بُرے ہوں تو انسان بُرا بن جاتا ہے۔ جیسا کہ نبیِّ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔ [5] لہٰذا دوستی یاری میں یہ دیکھا جائے کہ میرا دوست مجھے کن باتوں اور کن کاموں کے کرنے کا کہہ رہا ہے؟ اگر دوست بُرے کام کرنے ، بیہودہ باتیں کرنے ، نشہ آور اشیاء پلانے یا پینے ، فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے ، کسی کو تنگ کرنے یا مذاق اُڑانے ، دل آزاری کرنے ، دوسرے دوستوں سے قطع تعلقی کرنے ، کسی سے لڑائی جھگڑا کرنے یا تکلیف پہنچانے ، گانے باجے سننے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے کے لئے سینما جانے ، لوگوں سے چھیڑ خانی کرنے ، نَماز نہ پڑھنے ، نیک کام کرنے سے رکنے وغیرہ دیگر گناہوں بھرے کاموں کا کہیں تو ان کی ہرگز ہرگز ایسی کوئی بات نہ مانی جائے بلکہ وہی بات مانی جائے جس میں دونوں کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔

نیز ان کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہر کوئی کسی نا کسی کی بات ماننے کا پابند ہے ، الغرض کوئی کسی کی بات ماننے کا خواہ کیسا ہی پابند کیوں نہ ہو لیکن وہ یہ یاد رکھے کہ کسی کی بات وہی مانی جائے گی جو “ اِنَّمَا الطَّاعَةُ فِى الْمَعْرُوف “ کے تحت ہو یعنی کسی کی بات ماننی پڑےتو یہ دیکھا جائے کہ کیا یہ بات نیکی کے کاموں میں سے ہے یا نہیں؟ اور یہ بات قابلِ اطاعت ہے بھی یا نہیں؟ لہٰذا اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو امید ہے کہ دنیا سے بہت سے گناہوں کا خاتمہ ہوگا اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط رکھ کر ایک خوشگوار زندگی گزاریں گے۔

اللہ پاک ہمیں پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اطاعت کرنے ، ہر طرح کے بُرے کاموں سے بچنے اور ہمیشہ نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ فیضانِ حدیث ، المدینۃ العلمیہ(اسلامی ریسرچ سینٹر) کراچی



[1] بخاری،4/455،حدیث: 7145

[2] فیض القدیر،6/560

[3] پ5،النسآء:59

[4] شرح السنہ للبغوی، 5/299،حدیث:2449

[5] ترمذی،4/167، حدیث: 2385۔


Share

Articles

Comments


Security Code