دارالافتاء اہل سنت

* مفتی محمد ہاشم  خان عطّاری مدنی

ماہنامہ فروری2022

 (1)سگریٹ پی کر مسجد میں جانا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص سگریٹ پی کر منہ سے بدبو ختم کئے بغیر فوراً مسجد میں چلا جاتا ہے۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟                                           

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مذکور شخص کا سگریٹ پینے کے فوراً بعد مسجد میں جانا جائز نہیں۔ کیونکہ سگریٹ پینے والے کے منہ سے سخت بدبو آتی ہے اور بدبو ختم کئے بغیر مسجد میں جانا حرام و گناہ ہے۔ البتہ اگر وہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے کسی ذریعے سے بدبو ختم کر لیتا ہے تو جا سکتا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)کرکٹ میچ کی ٹرافی

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو ٹیمیں کرکٹ کھیل رہی ہیں اور دونوں ٹیموں نے آدھے آدھے پیسے ملا کر ایک ٹرافی خریدی کہ جو ٹیم جیتے گی اسے دے دی جائے گی کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ایسا کرنا شرعاً ناجائزوحرام ہے کہ اس میں جوا پایا جارہا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جو ٹیم جیتے گی اس کو توٹرافی دے دی جائے گی لیکن جو ٹیم میچ ہارےگی اس کو کچھ نہیں دیا جائے گا اور ان کی ٹرافی میں ملائی ہوئی رقم ضائع ہوجائے گی ، یہ بعینہٖ جُوا ہے یعنی مال کو اس طرح داؤپر لگا نا کہ یا تو زائدمال مل جائے یا اپنابھی چلا جائے۔

 وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)کتے کو مارنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسا کتا جو گھر کے پالتو جانوروں(جیسے مرغی اور بطخ وغیرہ) کو ایذا دیتا ہو یا کھا جاتا ہو ، اسے مارنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شرعی طور پر کتے سمیت جو جانور تکلیف نہیں پہنچاتے انہیں مارنا جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ نقصان کا باعث ہوں توکسی تیز دھار چھری سے انہیں ذبح کرنا جائز ہے(اگر پکڑ کر ذبح کرنا مشکل ہو تو پہلے اسے کوئی نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کر دیا جائے ، اس کے بعد ذبح کر دیا جائے)۔ صورتِ مسئولہ میں بھی اگر واقعی وہ کتا گھر کے جانوروں کو کھا جاتا ہے تو اسے مذکورہ طریقے سے مار سکتے ہیں۔

 وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(4)سوشل میڈیا آئی ڈیز ہیک کرنا کیسا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدفیس بک کی آئی ڈیز ہیک کرتا تھا اور ان آئی ڈیز کے ذریعے مختلف لوگوں کو کومنٹس کیا کرتا تھا۔ بعض آئی ڈیز پر گیم کھیلنے کے کوائنز بھی ہوتے تھے جو کہ گیم کھیلنے کےلیے خریدے جاتے ہیں(یہ کوائنز صرف فیگرز ہوتے ہیں جو کہ آئی ڈی پر ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں ) اور گیم میں ہارنے پر وہ کوائنز جیتنے والے کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے ہیں۔ زید وہ کوائنز اپنے دوستوں کو دے دیا کرتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح آئی ڈیز ہیک کرنا کیسا ؟ نیز کیا زید پر کوائینز واپس کرنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صورتِ مسئولہ میں آئی ڈیز ہیک کرنا اور ان کے ذریعے کومنٹس کرنا ناجائز و حرام و گناہ ہے کہ اس میں دوسرے مسلمان کو اذیت پہنچانا ، کسی کی آئی ڈی سے کومنٹس کرکے دوسرے لوگوں کو دھوکا دینا اور جھوٹ بولنا ، اور جس کی آئی ڈی ہے (غلط کومنٹ یا پوسٹ کر کے) اس کی بے عزتی و شرمندگی کا باعث بننا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ زید پر ان تمام گناہوں سے توبہ کرنا اور جن کو اس سے اذیت ہوئی ان تمام لوگوں سے معافی مانگنا بھی لازم و ضروری ہے۔ البتہ کوائنز واپس کرنا ضروری نہیں کیونکہ وہ مال نہیں اور ضمان کےلیے مالِ متقوم ہونا ضروری ہے۔ بالفرض اسے مال مان بھی لیا جائے تو یہ لہوو لعب کا ذریعہ ہے اور لہو و لعب کے آلات ضائع کرنے پر تاوان لازم نہیں ہوتا۔

 وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(5)سُترہ کیسا ہونا چاہئے؟

سوال : کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک گزلمبی اورانگلی سے زائدموٹی لکڑی نمازی کے سامنے کس اندازمیں رکھی جائے کہ اس کے پیچھے سے نمازی کے سامنے سےگزرنالوگوں کے لیے جائزہوسکےیعنی اسے لٹاکررکھاجائے یانمازی کے آگے کھڑا کر کے رکھا جائے اور اس کوکھڑاکرکے رکھناممکن بھی ہے۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عندالشرع ایسی لکڑی سترہ بننے کے قابل ہے ، جوکم ازکم ایک ہاتھ کی مقدارلمبی اورایک انگلی کی مقدارموٹی ہو۔ اسے ایسا سترہ بنانے کے لیےکہ اس کے پیچھے سے نمازی کے سامنے سے گزرا جاسکے ، کھڑاکرکے یاگاڑکےرکھاجائے گا ، لٹانے کی صورت میں وہ سترہ کا یہ کام نہیں دے گی کہ اس کے پیچھے سے نمازی کے سامنے سے گزرنا ، جائزہو۔

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ  وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شیخ الحدیث و مفتی دار الافتاء اہل سنت ، لاہور


Share

Articles

Comments


Security Code