دارالافتاء اہلسنت

* مفتی فضیل رضا عطاری

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2022ء

(1)نمازِ عید سے پہلے صدقہ فطر ادانہیں کیا  تو کیا حکم ہوگا؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کسی شخص نےعیدکے دن نمازِعیدسےپہلےصدقۂ فطرادانہیں کیا اور کئی دن گزرگئےتوکیاحکم ہے؟نیزیہ بھی ارشاد فرمائیں کہ وہ اس  تاخیرکی وجہ سے گنہگارہوگا یانہیں؟             سائلہ : بنت عبدالرحمٰن(نیوکراچی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عیدکےدن صبح صادق ہوتے ہی مالکِ نصاب کے ذمے صدقۂ فطرواجب ہوجاتاہےجوزندگی میں کبھی بھی اداکیا جاسکتا ہے البتہ عید کےدن نمازِعیدسےپہلےادا کرنا افضل اور سنت ہے۔ لہٰذا اگر کسی نے نمازِعیدسےپہلےصدقۂ فطرادا نہیں کیاتواس کے بعدکتناہی طویل عرصہ کیوں نہ گزر گیاہو اس سےیہ صدقۂ فطرمعاف نہیں ہوگابلکہ  یہی حکم ہےکہ وہ اپنایہ واجب ادا کرے۔ اور زندگی میں جب بھی اداکرےگا “ ادا “ ہی ہے ، قضانہیں ہے۔ نیزصدقۂ فطرکی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی وجہ سےشرعی طورپر اگرچہ  گنہگارنہیں تاہم یہ تاخیر مکروہِ تنزیہی ہےیعنی شریعت کوپسند نہیں ہےلہٰذا اس سے بچنا بہترہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)نمازِ جنازہ میں مقتدی کا تکبیرات کہنا لازم ہے یانہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ  جنازہ میں مقتدی کا تکبیرات کہنا لازم ہے یا نہیں؟ اگر مقتدی امام کی تکبیر پر اکتفاء کرتے ہوئے تکبیر نہ کہے تو مقتدی کی نمازِ جنازہ کا کیا حکم ہوگا؟

سائل : عبد الرحمٰن (ریشم گلی ، حیدر آباد)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نمازِ جنازہ میں تکبیرات کہنا فرض ہیں ، ان کے چھوڑنے سے نمازِ جنازہ باطل ہوجاتی ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں مقتدی کا بھی تکبیرات کہنا فرض ہے ، اگرمقتدی امام صاحب کی تکبیرات پر اکتفاء کرتے ہوئے تکبیرات کو چھوڑ دےتو مقتدی کی نمازِ جنازہ باطل ہوجائے گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)قرضے کی رقم ڈالر کی  موجودہ  قیمت کے مطابق لینے کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید  نے  بکر سے چند سال قبل دو لاکھ پاکستانی روپے ادھار لئے تھے ۔ ادھار دیتے وقت فریقین کےدرمیان کچھ بھی طے نہیں ہوا تھا کہ قرض کی ادائیگی کس ذریعے سے ہوگی۔ اب جب رقم واپس کرنے کا وقت آیا تو بکر کا کہنا ہے کہ اب چونکہ ڈالر کے ریٹ بڑھ گئے ہیں تو میں ڈالر کے حساب سے رقم لوں گا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیابکر کا یہ کہنا شرعاً درست ہےاور کیا زید کو اب رقم  کی ادائیگی ڈالر کو مدِّ نظر رکھ کر کرنا ہو گی ؟

سائل : عبد الواحد (گلستان جوہر ، کراچی)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شرعی اصول یہ ہے کہ صرف مِثلی (یعنی وہ اشیاء کہ جن کی مثل بازار میں دستیاب ہوتی ہے)اشیاء کو قرض دیا جاسکتا ہے اور قرض واپس کرتے ہوئے لی گئی چیز کا مثل ہی ادا کیا جائے گا اس کی قیمت کے بڑھنے یا کم ہونے کا کوئی اعتبار نہیں  لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ بکر نے زید کو دو لاکھ پاکستانی روپے قرض دیے تھے جومثلی اشیاء میں سے تھےاس لیے زیدپر فقط دو  لاکھ پاکستانی روپے ہی ادا کرنالازم ہیں اور بکر کا ڈالر کے ذریعے  یا ڈالر کی قیمت کے مطابق ادائیگی کا مطالبہ شرعاً جائز نہیں ۔

بالفرض وہ  یوں طے کربھی لیتے  کہ دو لاکھ  پاکستانی روپے قرض کی واپسی ڈالر یا ڈالر کی قیمت  کے ذریعےسے ہوگی ، تو بھی یہ جائز نہ ہوتا اور یہ شرط باطل ہوتی اور قرض لینے والے پر فقط  دو لاکھ پاکستانی روپے ہی واپس ادا کرنا لاز م ہوتے  ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 (4)شادی بیاہ و دیگر تقریبا ت  کےلئے  کرایہ پر سامان مہیا کرنے کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ  میں  شادی بیاہ اور دیگر تقریبات  کے موقع پر   بجلی کا سامان  یعنی پنکھے ، اے سی ،  جنریٹر ، کلر لائٹ  وغیرہ کرائے پر مہیا کرتا ہوں ، بعض شادیوں میں مہندی   وغیرہ کے موقع پر  مرد  و عورت کا اختلاط ، ناچ گانے اور نیم برہنہ  کپڑوں میں خواتین  بھی ہوتی  ہیں  تو   میرا  شادیوں کے لیے   مذکورہ سامان کرائے پر دینا  اور اس کی اجرت لینا درست ہے؟ کہیں  میں  حرام تو نہیں کھا رہا؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی  گئی صورت میں  آپ   کا  پنکھے ،  AC ، جنریٹر ، کلر لائٹ  وغیرہ شادی  وغیرہ  تقریبات کے لیے  کرائے پر  دینا اور اس  کی اجرت لینا  جائز وحلال ہے  کہ اجارہ مذکورہ سامان کا ہے اوراس  میں  کوئی گناہ نہیں۔ باقی شادی میں  اگر ناچ ، گانا وغیرہ ناجائز کام ہوں تو  یہ ان کا  فعل  ہے اور اس گناہ  کے ذمہ دار کرنے والے خود ہوں گے ، آپ نہیں ، ہاں ان کے گناہ میں  معاونت کی نیت کی تو اپنی  اس بری نیت کی وجہ سے آپ بھی   گناہ  گار ہوں  گے لہٰذا گناہ میں مدد کی نیت سے بچنا آپ کے لئے لازم و  ضروری ہے ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code