باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت براء سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ سے جو پہلے ہمارے پاس پہنچے وہ مصعب ابن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے وہ دونوں ہم کو قرآن پڑھانے لگے ۲؎پھر جناب عمار و بلال اور سعد آگئے پھر حضرت عمر ابن خطاب بیس صحابہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی جماعت میں آپہنچے ۳؎پھر خود نبی صلی الله علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لائے ۴؎تو میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی چیز سے خوش ہوئے جیساکہ حضور کی تشریف آوری سے خوش ہوئے حتی کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو کہتے سنا کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے آئے ۵؎پھر آپ نہ آئے حتی کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَی"ان جیسی مفصل کی سورتوں کے درمیان میں پڑھ چکا تھا ۶؎(بخاری)

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَجَعَلَا يُقْرِآنِنَا الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهٖ حَتّٰى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هٰذَارَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ فَمَا جَاءَ حَتّٰى قَرَأْتُ: [سَبِّحِ اسْمَ ربِّكَ الْأَعْلٰى] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5956 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ۱؎تو فرمایا کہ ایک بندے کو الله نے اس کا اختیار دیا کہ اسے دنیا کی ترو تازگی اتنی عطا کرے جتنی وہ چاہے اور وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں ۲؎تو اس بندے نے الله کے پاس کی نعمتیں اختیار کرلیں ۳؎حضرت ابوبکر رونے لگے عرض کیا آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ۴؎ہم نے ان پر تعجب کیا لوگ بولے ان بزرگ کو تو دیکھو کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تو اس بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے الله نے اختیار دیا کہ اسے دنیا کی سرسبزی دے اور وہ جو اس کے پاس ہے وہ دے اور آپ کہتے ہیں کہ آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں۵؎پھر پتہ لگا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہی اختیار دیئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ہم سب میں زیادہ علم والے تھے ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى المِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللّٰهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهٗ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهٗ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ». فَبَكٰى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهٗ فَقَالَ النَّاسُ: اُنْظُرُوا إِلٰى هٰذَاالشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللّٰهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهٗ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهٗ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمْنَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5957 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی ۱؎زندوں مردوں کو رخصت فرمانے والوں کی طرح ۲؎پھر آپ منبر پر چڑھے فرمایا کہ میں تمہارے آگے پیشرو ہوں۳؎اور میں تمہارا نگران گواہ ہوں۴؎اور تمہارے وعدہ کی جگہ حوض ہے ۵؎اور میں اسے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۶؎اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں ۷؎میں تم پر یہ خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ۸؎لیکن میں تم پر دنیا کا خوف کرتا ہوں کہ تم اس میں رغبت کر جاؤ اور بعض نے یہ زیادتی کی پھر تم جنگ کرو تو اسی طرح ہلاک ہوجاؤ جیسے تم سے پہلے والے ہلاک ہوئے ۹؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلّٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى قَتْلٰى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَنَا فِي مَقَامِي هٰذَاوَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشٰى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوابَعْدِيْ وَلَكِنِّي أَخْشٰى عَلَيْكُم الدُّنْيَا أَنْ تُنَافِسُوْهَا فِيْهَا». وَزَادَ بَعْضُهُمْ:«فَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5958 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ مجھ پر الله کی نعمتوں میں سے یہ ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میرے گھر میں اور میرے دن میں اور میرے گلے اور سینہ کے درمیان وفات پائی ۱؎اور الله نے میرے تھوک اور آپ کے تھوک کو حضور کی وفات کے وقت جمع فرمایا ۲؎کہ میرے پاس عبدالرحمن ابن ابوبکر صدیق آئے کہ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکیہ دیئے بیٹھی تھی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ عبدالرحمن کی طرف دیکھ رہے ہیں۳؎میں پہچان گئی کہ آپ مسواک چاہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ کیا میں اسے آپ کے لیے لے دوں تو آپ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۴؎تو میں نے وہ لے لی آپ پر مسواک سخت ہوئی میں نے کہا کہ کیا اسے آپ کے لیے نرم کردوں تو سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ۵؎چنانچہ میں نے نرم کردی تو حضور نے اسے اپنے دانتوں پرپھیرا اور آپ کے سامنے برتن تھا جس میں پانی تھا پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈالتے پھر انہیں منہ پر پھیرنے لگے ۶؎فرماتے تھے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک موت کی بہت سختیاں ہیں ۷؎پھر اپنا ہاتھ کھڑا کیا پھر فرمانے لگے کہ اوپر والے ساتھیوں میں حتی کہ جان شریف قبض کرلی گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ۸؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللّٰهِ عَلِيَّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوِفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَإِنَّ اللّٰهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهٖ عِنْدَ مَوْتِهٖ دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَبِيَدِهٖ سِوَاكٌ وَأَنَا مُسْنِدَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهٗ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْتُ أَنَّهٗ يُحِبُّ السِّوَاكَ فَقُلْتُ: آخُذُهٗ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهٖ أَنْ نَعَمْ فَتَنَاوَلْتُهٗ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهٗ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهٖ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهٗ فَأَمَرَّهٗ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهٗ وَيَقُولُ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَراتٍ». ثمَّ نَصَبَ يَدَهٗ فَجَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلٰى».حَتّٰى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهٗ.رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5959 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں بیمار ہوتے کوئی نبی مگر انہیں دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے ۱؎اور آپ اپنے اس مرض میں تھے جس میں وفات دیئے گئے تو آپ کو سخت خراٹے نے پکڑ لیا۲؎میں نے آپ کو کہتے سنا کہ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا یعنی انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۳؎تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» .وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ:مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ. فَعَلِمْتُ أَنَّهٗ خُيِّرَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5960 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوگئی تو آپ پر بے چینی چھانے لگی ۱؎جناب فاطمہ بولی ہائے اباجان کی تکلیف۲؎تو فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے باپ کو تکلیف اب کبھی نہ ہوگی۳؎پھر جب وفات پائی تو فاطمہ بولیں ہائے ابا جان آپ نے اپنے رب کا بلاوا قبول کرلیا۴؎ہائے ابا جان آپ کا مقام تو جنت الفردوس ہوگیا ہائے ابا جان ہم جبریل کو تعزیت دیتے ۵؎پھر جب دفن کیے گئےتو جناب فاطمہ بولیں کہ اے انس کیا تمہارے دلوں نے گوارہ کیا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر مٹی ڈالو ۶؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ الْكَرْبُ.فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَ آبَاهْ فَقَالَ لَهَا: «لَيْسَ عَلٰى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ» . فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهُ مِنْ جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلٰى جِبْرِيلَ نَنْعَاهُ. فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ؟ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5961 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حبشی بچے اپنے نیزوں سے کھیلتے تھے آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں ۱؎(ابوداؤد) اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ میں نے کوئی دن نہ برا اور نہ بہت تاریک دیکھا اس دن سے جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ۲؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب وہ دن تھا جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز چمک گئی ۳؎پھر جب وہ دن ہوا جس میں حضور نے وفات پائی تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ہم نے مٹی سے اپنے ہاتھ نہ جھاڑے حالانکہ ہم حضور کے دفن میں مشغول تھے حتی کہ ہم نے اپنے دلوں کو غیر پایا ۴؎

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا لِقُدُومِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ قَالَ: مَا رَأَيْت يَوْمًا كَانَ أَقْبَحُ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا عَنِ التُّرَابِ وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهٖ حَتّٰى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5962 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو آپ کے دفن میں لوگوں نے اختلاف کیا ۱؎تو ابوبکر صدیق نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ایک بات سنی ۲؎کہ الله نے کسی نبی کو وفات نہیں دی مگر اس جگہ جہاں ان کا دفن کیا جانا پسند تھا ۳؎حضور کو آپ کے بستر کی جگہ میں ہی دفن کرو ۴؎(ترمذی) ۵؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا. قَالَ: «مَا قَبَضَ اللّٰهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يحبُ أَن يُدْفَنَ فِيهِ» . اِدْفُنُوْهٗ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5963 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی تندرستی میں فرماتے تھے کہ الله تعالٰی کسی نبی کو وفات نہیں دیتا حتی کہ انہیں ان کاجنتی مقام دکھا دیا جائے ۱؎پھر انہیں اختیار دیا جاوے،جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ جب حضور پر نزع طاری ہوا اور آپ کا سر میری ران پر تھا ۲؎تو آپ پر غشی آگئی پھر افاقہ ہوا تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی پھر فرمایا لٰہی میں نے اوپر کے ساتھی قبول کیے۳؎میں بولی کہ اب حضور ہم کو نہیں اختیارکریں گے فرماتی ہیں کہ میں پہچان گئی کہ یہ وہ ہی حدیث ہے جو حضور ہم کو اپنی تندرستی میں خبر دیتے تھے۴؎اس فرمان کے متعلق کہ کوئی نبی وفات نہیں دیا جاتا حتی کہ اسے اس کا جنتی مقام دکھادیا جاتا ہےپھر اختیار دیا جاتا ہے جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بات جو حضور نے کی وہ یہ ہی تھی کہ میں نے اپنے اوپر کے ساتھی قبول کیے۔(مسلم و بخاری)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيْحٌ:اِنَّہٗ لَنْ يُّقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتّٰى يُرٰى مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ.قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِهٖ وَ رَأْسُهٗ عَلٰى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرُهُ اِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ: « اَللّٰهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلٰى» . قُلْتُ: إِذَنْ لَا يَخْتَارُنَا.قَالَتْ: وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهٖ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: «إِنَّهٗ لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتّٰى يُرٰى مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلہٗ : اَللّٰهُمَّ الرَّفِيْقَ الْأَعْلٰى . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5964 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں فرماتے تھےجس میں وفات پائی کہ اے عائشہ میں اس کھانے کا اثرپاتا رہتا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا ۱؎اور یہ وہ وقت ہے کہ میں اپنا دل کی رگ کا ٹوٹنا اس زہر سے محسوس کر رہا ہوں ۲؎(بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ وَهٰذَاأَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذٰلِكَ السَّمِّ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5965 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا وقت وفات آیا ۱؎اور گھر میں کچھ لوگ تھے جن میں حضرت عمر ابن خطاب بھی تھے ۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی نہ بہکو ۳؎تو حضرت عمر نے کہا کہ آپ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے تم کو الله کی کتاب کافی ہے۴؎گھر والے اختلاف کر بیٹھے جھگڑنے لگے ۵؎بعض کہتے تھے کہ پیش کرو تاکہ تمہارے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم تحریر لکھ دیں،بعض تھے جو وہ ہی کہتے تھے جو حضرت عمر نے کہا،پھر جب انہوں نے شور اور اختلاف زیادہ کیا ۶؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۷؎عبید الله کہتے ہیں ۸؎کہ حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ پوری مصیبت وہ تھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کی تحریر فرمانے کے درمیان حائل ہوگئی ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے ۹؎اور سلیمان ابن ابی مسلم احول کی روایت میں ہے۱۰؎کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہائے جمعرات کا دن اور کیا ہی تھا جمعرات کا دن پھر آپ روئے حتی کہ آپ کے آنسو نے کنکر تر کردیئے میں نے کہا اے ۱۱؎ابن عباس جمعرات کا دن کا کیا ہے، فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو فرمایا کہ میرے پاس کندھے کی ہڈی لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد کبھی بہکو گے نہیں مگر لوگ جھگڑ پڑے نبی کے پاس جھگڑا نہیں چاہیے ۱۲؎تو لوگ بولے کہ حضور کا خیال مبارک کیا ہے کیا آپ پریشان باتیں کررہے ہیں آپ سے پوچھ لو۱۳؎چنانچہ وہ آپ سے بار بار پوچھنے لگے۱۴؎تو فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو جس میں میں مشغول ہوں وہ اس سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ۱۵؎پھر ان کو تین چیزوں کا حکم دیا ۱۶؎مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکالو ۱۷؎وفود کو ان کا حق دو جیساکہ انہیں ہم دیا کرتے تھے ۱۸؎اور تیسری سے خاموشی فرمائی یا حضور نے وہ بات کہی مگر میں بھول گیا ۱۹؎سفیان کہتے ہیں کہ یہ سلیمان کا قول ہے(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ» . فَقَالَ عُمَرَ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللّٰهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَمِنْهُم يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ. فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا عَنِّي» . قَالَ عُبَيْدُ اللّٰهِ: فَكَانَ ابنُ عباسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيئَةَ كُلَّ الرَّزِيئَةِمَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيَّنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذٰلِكَ الْكِتَابَ لِاخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمِ الْأَحْوَلِ قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكٰى حَتّٰى بَلَّ دَمْعُهُ الحَصٰى. قُلْتُ: يَابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهٗ فَقَالَ: «اِئْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهٗ أَبَدًا» . فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ. فَقَالُوا: مَا شَأْنُهٗ أَهَجَرَ؟ اِسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: «دَعُونِي ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ» . فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ: فَقَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا قَالَ سُفْيَانُ: هٰذَامِنْ قَولِ سُلَيْمَانَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5966 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے جناب عمر سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد فرمایا کہ ہم کو ام ایمن کے پاس لے چلو ۱؎ہم ان کی ملاقات کریں جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی ملاقات فرماتے تھے ۲؎تو جب ہم ان تک پہنچے ۳؎تو وہ رونے لگیں ان سے ابوبکر صدیق نے کہا کہ آپ کو کیا چیز رلاتی ہےکیا آپ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں ۴؎وہ بولیں کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں یہ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں مگر میں تو اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی آنا بندہوگئی ۵؎انہوں نے ان دونوں کو بھی رونے پر بھڑکا دیا وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۶؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنْطَلِقْ بِنَا إِلٰى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا اِنْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ. فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أَبْكِي أَنِّي لَا أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللّٰهِ تَعَالٰى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى البُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5967 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں ہمارے سامنے آئے جس میں آپ کی وفات ہوئی ہم لوگ مسجد میں تھے آپ ایک کپڑے سے پٹی باندھے آئے ۱؎حتی کہ منبر کیطرف تشریف لے گئے اس پر جلوہ گر ہوئے ہم حضور کے پیچھے ہوگئے ۲؎فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں اپنی اس جگہ سے حوض کو دیکھ رہا ہوں۳؎پھر فرمایا کہ ایک بندہ پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کرلیا ۴؎فرماتے ہیں کہ یہ بات سواء ابو بکر کے کوئی نہیں سمجھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں پھر عرض کیا بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ اپنی جانیں اپنے مال فدا کریں گے یارسول الله، فرماتے ہیں کہ پھر آپ اترے پھر منبر پر اس گھڑی تک نہ کھڑے ہوئے ۵؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهٗ بِخِرْقَةٍ حَتّٰى أَهْوٰى نَحْوَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَوٰى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنِّي؟ لَأَنْظُرُ إِلَى الحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هٰذَا » ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ» قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكٰى ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وأُمَّهَاتِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5968 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب آیتاذا جاء نصر الله،الخ نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب فاطمہ کو بلایا فرمایا مجھے اپنی موت کی خبر دے دی گئی ۱؎وہ روئیں تو فرمایا مت روؤ کیونکہ میرے گھر والوں میں سے پہلے مجھ سے تم ملوگی ۲؎آپ ہنس پڑیں۳؎انہیں نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے دیکھ لیا وہ بولیں اے فاطمہ ہم نے تم کو دیکھا کہ تم روئیں پھر ہنس پڑیں۴؎آپ بولیں کہ حضور نے مجھے خبر دی کہ آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی تو میں رونے لگی تو فرمایا مت روؤ کیونکہ تم میرے سب گھر والوں سے پہلے مجھ سے ملوگی تو میں ہنس پڑی ۵؎اور رسول الله نے فرمایا کہاذا جاء نصرالله والفتح،الخ اور یمن والے آئے ۶؎وہ دلوں کے نرم ہیں ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت یمن والی ۷؎(دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِيْ» فَبَكَتْ قَالَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِيْ لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ:يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ.قَالَتْ: إِنَّهٗ أَخْبَرَنِي أَنَّهٗ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهٗ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي:لَا تبْكي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهلِي لَاحِقٌ بِي فَضَحِكْتُ.وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٍ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5969 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے کہا ہائے میرا سر تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ہوگیا اور میں زندہ ہوا تو تمہارے لیے دعائے مغفرت کروں گا ۱؎تو جناب عائشہ بولیں ہائے ہلاکت رب کی قسم میں آپ کے متعلق گمان کرتی ہوں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو آپ اس دن کے آخر میں اپنی بعض بیویوں سے آرام فرمائیں گے۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر۳؎میں نے قصد یا ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور ولی عہدکروں اس خطرہ سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں۴؎پھر میں نے سوچا کہ الله انکار کرے گا اورمسلمان دفع کریں گے یا الله دفع کرے گا اور مسلمان انکارکریں گے ۵؎(بخاری)

وَعَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: وَارَأسَاهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلَيَاهْ وَاللّٰهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي فَلَوْ كَانَ ذٰلِكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعْرِسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنا وَا رَأسَاهٗ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ وَاِبْنِهٖ وَأَعْهَدُ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى المُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللّٰهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللّٰهُ وَيَأْبَى المُؤْمِنُونَ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5970 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک جنازہ سے بقیع سے واپس ہوئے ۱؎تو مجھے پایا کہ میں درد سر محسوس کرتی تھی اور کہتی تھی ہائے رے سر،فرمایا اے عائشہ بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہائے رے سر ۲؎فرمایا کہ تم کو مضر نہیں اگر تم مجھ سے پہلے مرگئیں تو میں تم کو غسل دوں گا کفن پہناؤں گا اور تم پر نماز پڑھوں گا۳؎اور تمہیں دفن کروں گا میں بولی گویا میں آپ کو محسوس کرتی ہوں خدا کی قسم اگر آپ یہ کرتے تو آپ میرے گھر واپس آئیں گے اس میں بعض بیویوں کے ساتھ آرام کریں گے۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ کا وہ مرض شروع ہوگیا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۵؎(دارمی)

وَعَنْهَا:قَالَتْ:رَجَعَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِّنْ جَنَازَةٍ مِّنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ:وَارَأْسَاهْ قَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَارَأْسَاهْ»قَالَ: « وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟» قُلْتُ: لَكَأَنِيِّ بِكَ وَاللّٰهِ لَوْ فَعَلْتَ ذٰلِكَ لَرَجَعْتَ إِلٰى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ فَتَبَسَّمَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِيءَ فِي وَجَعِهٖ الَّذِي مَاتَ فِيهِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5971 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات

روایت ہے جعفر ابن محمد سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک قریشی آدمی ان کے والد علی ابن حسین کے پاس آیا ۱؎بولا کیا میں تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیث نہ سناؤں آپ نے فرمایا ہاں ہم کو ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سناؤ وہ بولا کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کے پاس جبریل آئے ۲؎عرض کیا اے محمد مجھے الله نے آپ کے پاس بھیجا ہے خصوصیت سے آپ کی عزت افزائی فرمانے احترام فرمانے کے لیے۳؎رب آپ سے اس کے متعلق پوچھتا ہے جووہ آپ سے زیادہ جانتا ہے کہ آپ اپنے کو کیسا پاتے ہیں۴؎فرمایا اے جبریل میں اپنے کو غمگین پاتا ہوں اور اپنے کو ملول پاتا ہوں ۵؎پھر حضور کی خدمت میں دوسرے دن حاضر ہوئے آپ سے یہ ہی عرض کیا نبی صلی الله علیہ وسلم نے ویسا ہی جواب دیا جو پہلے دن دیا تھا پھر آپ کے پاس تیسرے دن آئے تو وہی عرض کیا جو پہلے دن عرض کیا تھا اور حضور نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا ۶؎اور ان کے ساتھ ایک فرشتہ آیا جسے اسمعیل کہا جاتا ہے ۷؎وہ ایک لاکھ ایسے فرشتوں کا سردار ہے جو ہر ایک ایک لاکھ پر سردار ہے اس نے حضور سے اجازت مانگی پھر آپ سے اس سے متعلق پوچھا پھر جبریل نے کہا یہ موت کا فرشتہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے ۸؎اس نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت نہ مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت مانگے گا ۹؎فرمایا اسے اجازت دے دو انہوں نے اسے اجازت دے دی پھر کہا اے محمد الله نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تو اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کی جان قبض کر لوں اور اگر آپ مجھے چھوڑنے کا حکم دیں تو اسے چھوڑوں دوں ۱۰؎تو فرمایا اے ملک الموت کیا تم یہ کام کرو گے ۱۱؎عرض کیا ہاں مجھے اسی کا حکم ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کی اطاعت کروں،فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے حضرت جبریل کی طرف دیکھا ۱۲؎تو جبریل نے عرض کیا کہ اے محمد الله تعالٰی آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے۱۳؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ملک الموت سے فرمایا کہ جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے وہ کرگزرو چنانچہ انہوں نے آپ کی روح قبض کرلی ۱۴؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی اور تعزیت کا وقت آیا۱۵؎تو لوگوں نے گھر کے ایک کنارہ سے آواز سنی کہ اے گھر والوں تم پر سلام اور الله کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں الله کی راہ میں ہر مصیبت سے صبر کرنا ہے ۱۶؎اور ہر فوت شدہ کا خلیفہ ہے ۱۷؎اور ہرگزر جانے والے کا عوض ہے ۱۸؎تو الله سے ہی ڈرو اوراس سے امید رکھو پورا مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم کردیا گیا ۱۹؎حضرت علی نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے یہ خضر علیہ السلام ہیں۲۰؎(بیہقی دلائل النبوہ)۲۱؎

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَخَلَ عَلٰى أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلٰى حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ تَكْرِيمًا لَكَ وَتَشْرِيفًا لَكَ خَاصَّةً لَكَ يَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنْكَ يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: "أَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرَئِيلُ! مَكْرُوبًا ". ثُمَّ جَاءَهُ اليَوْمَ الثَّانِي فَقَالَ لَهٗ ذٰلِكَ فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَدَّ أَوَّلَ يَوْمٍ ثُمَّ جَاءَهُ اليَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ لَهٗ كَمَا قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا رَدَّ عَلَيْهِ وَجَاءَ مَعَهٗ مَلَكٌ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ عَلٰى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ كُلُّ مَلَكٍ عَلٰى مِائَةِ أَلْفِ مَلَكٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهٗ عَنْهُ. ثُمَّ قَالَ جِبْرِيْلُ: هٰذَامَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ. مَا اسْتَأْذَنَ عَلٰى آدَمِيٍّ قَبْلَكَ وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلٰى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ. فَقَالَ: ائْذَنْ لَهٗ فَأَذِنَ لَهٗ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ فَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْبِضَ رُوحَكَ قَبَضْتُ وَإِنْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَتْرُكَهٗ تَرَكْتُهٗ فَقَالَ: وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ بِذٰلِكَ أُمِرْتُ وأُمِرْتُ أَنْ أُطِيْعَكَ. قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللّٰهَ قَدِ اشْتَاقَ إِلٰى لِقَائِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ: «امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ» فَقَبَضَ رُوحَهٗ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ إِنَّ فِي اللّٰهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ وَدَرَكاً مِنْ كُلِّ فَائِتٍ فَبِاللهِ فَاتَّقُوا وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَتَدْرُونَ مَنْ هٰذَا ؟ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5972 ، باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات