- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا اور اس کی بہترین بی بی مریم بنت عمران ہیں ۱∞؎اور اس کی بہترین بی بی خدیجہ بنت خویلد ہیں ۲؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ ابو کریب نے فرمایا کہ وکیع نے اس آسمان وزمین کی طرف اشارہ کیا۳؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6184 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جبریل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ خدیجہ آرہی ہیں ان کے ساتھ برتن ہے جس میں سالن اور کھانا ہے ۱∞؎تو جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا سلام اور میرا سلام فرمائیں اور انہیں جنت کے اس گھر کی بشارت دے دیں جو ایک موتی کا ہے نہ اس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتٰى جِبْرِيلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رسولَ اللّٰهِ هَذِهٖ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ وَطَعَامٌ فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6185 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج پاک میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر غیرت کی ۱∞؎حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہ تھا ۲؎لیکن حضور ان کا بہت ذکر کرتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ جناب خدیجہ کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے۳؎تو میں کبھی حضور سے کہہ دیتی کہ گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی ۴؎تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلٰى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلٰى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا وَلٰكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةَ فَيَقُولُ: «إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَت وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6186 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت حضرت ابوسلمہ سے کہ ۱∞؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عائشہ یہ حضرت جبریل ہیں تم کو سلام کہتے ہیں ۲؎انہوں نے جواب دیا کہ ان پر سلام اور اللہ کی رحمت اور بولیں حضور وہ دیکھتے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ سَلْمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشُ هٰذَاجِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ . قَالَتْ:وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرٰى مَا لَا أَرٰى(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6187 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم مجھے تین رات خواب میں دکھائی گئیں تھیں تمہیں فرشتہ ریشمی ٹکڑے میں لاتا تھا مجھ سے کہتا تھا کہ یہ تمہاری بیوی ہیں ۱∞؎میں نے تمہارے رخ سے کپڑا ہٹایا تو تم تھیں،میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے جاری (پورا) فرمادے گا۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُرِيْتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي: هَذِهٖ امْرَأَتُكَ فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ. فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هٰذَامِنْ عِنْدِ اللّٰهِ يُمْضِهٖ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6188 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفوں ہدیوں کے لیے جناب عائشہ کا دن تلاش کرتے تھے اس سے وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی چاہتے تھے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں دو گروہ تھیں ۲؎ایک گروہ وہ جس میں جناب عائشہ اور حفصہ۳؎اور صفیہ۴؎اور سودہ تھیں ۵؎اور دوسری جماعت میں ام سلمہ۶؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باقی بیویاں۷؎تو ام سلمہ کے گروہ نے گفتگو کی ان سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کلام کرو کہ آپ لوگوں سے فرمادیں کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ کو ہدیہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں ۸؎چنانچہ ام سلمہ نے حضور سے عرض کیا حضور نے ان سے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو کیونکہ سواء عائشہ کے کوئی بیوی نہیں جن کے بستر میں ہوں اور وحی آئے ۹؎ام سلمہ نے کہا یارسول اللہ میں آپ کی ایذا رسانی سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۱۰؎پھر تمام بیویوں نے جناب فاطمہ کو بلایا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۱۱∞؎انہوں نے حضور سے عرض کیا تو فرمایا اے بچی جس سے میں محبت کرتا ہوں تم ان سے محبت نہیں کرتیں بولیں ہاں فرمایا تو ان سے محبت کرو۱۲؎(مسلم،بخاری)اور حضرت انس کی حدیث کہ عائشہ کی بزرگی ساری عورتوں پر الخباب بدء الخلقمیں ذکر کردی گئی۱۳؎
وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذٰلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ:مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهٖ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ . قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟ قَالَتْ: بَلٰى.قَالَ: فَأَحِبِّي هَذِهِ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ فِي بَابِ بَدْءِ الْخَلْقِ بِرِوَايَةِ أبي مُوسٰى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6189 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے جہان والی عورتوں میں جناب مریم بنت عمران،خدیجہ بنت خویلد،فاطمہ بنت محمد اور آسیہ فرعون کی بیوی کافی ہیں ۱∞؎(ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6190 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب جبریل ان کی صورت سبز ریشمی ٹکڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے عرض کیا یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جِبْرِيْلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَذِهٖ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6191 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جناب صفیہ کو خبرپہنچی کہ حضرت حفصہ نے انہیں یہودی کی بیٹی کہا ۱∞؎تو وہ روئیں ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے جب کہ وہ رو رہی تھیں فرمایا کیوں روتی ہو آپ بولیں کہ مجھے بی بی حفصہ نے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نبی کی بیٹی ہو۲؎تمہارے چچا نبی ہیں اور تم نبی کی بیوی ہو تو تم پر حفصہ کیسے فخرکرتی ہیں ۳؎پھر فرمایا اے حفصہ اللہ سے ڈرو۴؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ لَاِبْنةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللّٰهَ يَا حَفْصَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6192 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے سال جناب فاطمہ کو بلایا ۱∞؎ان سے کچھ سرگوشی کی آپ روئیں پھر ان سے کچھ بات کی تو آپ ہنسیں ۲؎پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کے ہنسنے کے متعلق پوچھا تو بولیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی کہ آپ وفات پاجائیں گے۳؎تو میں روئی پھر مجھے خبر دی کہ میں سوا مریم بنت عمران کے جنتی عورتوں کی سردار ہوں۴؎تو میں ہنسی۵؎(ترمذی)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6193 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی حدیث مشکل نہ ہوئی کبھی بھی پھر ہم نے جناب عائشہ سے پوچھا مگر ہم نے ان کے پاس ان کا علم پایا ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
عَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: مَا أُشْكِلَ عَلَيْنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6194 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
روایت ہے حضرت موسیٰ ابن طلحہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے زیادہ کسی کو فصیح و بلیغ نہ دیکھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔
وَعَنْ مُوسٰى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6195 ، باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل