- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
باب:اس امت کے ثواب کا بیان
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر وہ ہے جو عصر کی نماز کے درمیان سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے ۱؎اور تمہاری اور یہودونصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کچھ مزدوروں سے کام کراتے ہیں تو کہے کون شخص ہے جو میرا کام کرے ایک ایک قیراط پر تو یہود نے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر مالک نے کہا کہ کون شخص ہے جو دوپہر سے عصر کی نماز تک میرا کام کرے گا ایک ایک قراط پر۲؎تو نصاریٰ نے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کہ کون میرا کام کرے گا نماز عصر سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر،آگاہ رہو کہ تم ہی وہ ہو جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک کام کرتے ہو تمہاری مزدوری دوگنی ہے ۳؎تو یہودونصاریٰ غصہ ہوکر بولے کہ کام میں ہم زیادہ ہیں اور عطیے کم ہیں ۴؎اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہارے حق میں سے کچھ کم کیا وہ بولے نہیں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں میں دوں۵؎(بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ إِلٰى نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلٰى نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلٰى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰى فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً قَالَ اللهُ تَعَالٰى: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: فَإِنَّهٗ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6283 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں مجھ سے بہت محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ۱؎ان میں سے ہر ایک تمنا کریگا وہ اپنے گھر بار مال کے عوض مجھے دیکھ لیتا۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهٖ وَمَالِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6284 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں ایک جماعت الله کے حکم پر قائم رہے گی انہیں وہ نقصان نہ دیں گے جو انہیں رسوا کریں ۱؎نہ وہ جو ان کی مخالفت کریں حتی کہ الله کا حکم آوے گا ۲؎حالانکہ وہ اس حال پر ہوں گے۳؎(مسلم،بخاری) اور حضرت انس کی حدیثان من عباد اللهقصاص کے بیان میں ذکر کردی گئی۴؎
وَعَن مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللّٰهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتّٰى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ عَلٰى ذٰلِكَ».وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ» فِي "كِتَابِ الْقِصَاصِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6285 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری امت کی مثل اس بارش کی سی ہے کہ خبر نہیں کہ اگلی خیر ہے یا پچھلی ۱؎(ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرٰى أَوَّلُهٗ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6286 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت جعفر سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خوش ہوجاؤ خوشی سناؤ کہ میری امت کی مثال بارش کی ہے نہیں کہا جاتا کہ اس کی پچھلی اچھی ہے یا کہ اگلی۲؎یا اس باغ کی سی ہے جس میں سے ایک سال ایک فوج نے کھایا پھر ایک سال دوسری فوج نے کھایا۳؎شاید کہ آخری فوج چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ اچھی ہو۴؎وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کے درمیان مہدی ہوں اور آخر مسیح ہوں۵؎لیکن اس کے درمیان ٹیڑھی فوج ہے نہ وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے۶؎(رزین)
عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا إِنَّمَا مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْغَيْثِ لَا يُدْرٰى آخِرُهٗ خَيْرٌ أَمْ أَوَّلُهٗ؟ أَوْ كَحَدِيقَةٍ أُطْعِمَ مِنْهَا فَوْجٌ عَامًا لَعَلَّ آخِرَهَا فَوْجًا أَنْ يَكُونَ أَعْرَضَهَا عَرْضًا وَأَعْمَقَهَا عُمْقًا وَأَحْسَنَهَا حُسْنًا كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا أَوَّلُهَا وَالْمَهْدِيُّ وَسَطُهَا وَالْمَسِيحُ آخِرُهَا وَلٰكِنْ بَيْنَ ذٰلِكَ فَيْجٌ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ". رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6287 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تمہارے نزدیک مخلوق میں کون زیادہ پیارے ایمان والا ہے ۱؎عرض کیا فرشتے فرمایا وہ کیوں ایمان نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں ۲؎بولے تو نبی حضرات،فرمایا وہ حضرات کیوں ایمان نہ لائیں ان پر تو وحی اترتی ہے۳؎لوگوں نے عرض کیا کہ تو ہم،فرمایا تم کیوں ایمان نہ لاؤ میں تو تمہارے درمیان ہوں۴؎فرماتے ہیں کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے ساری مخلوق میں پیاری ایمان والی وہ قوم ہے جو میرے بعد ہوگی وہ لوگ صحیفے پائیں گے جن میں وہ کتاب ہوگی وہ کتاب کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے ۵؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟» قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ قَالَ: «وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟» قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6288 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن علاء حضرمی سے۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ کو اس نے خبر دی جس نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے سنا۲؎کہ فرماتے ہیں کہ اس امت کے آخر میں ایک ایسی قوم ہوگی جن کو اگلوں کا سا ثواب ہوگا۳؎وہ بھلائی کا حکم دیں گے برائی سے روکیں گے اور فتنوں والوں سے لڑیں گے۴؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْعَلَاءِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهٗ سَيَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ» رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6289 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے دیکھا اور سات بار خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا ۱؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«طُوبٰى لِمَنْ رَآنِيْ وَطُوبٰى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِيْ وَاٰمَنَ بِيْي» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6290 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے ابن محیریز سے۱؎فرماتے ہیں میں نے ابو جمعہ سے کہا۲؎(جو ایک صحابی ہیں)کہ ہم کو ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے سنی ہو فرمایا ہاں میں تم کو ایک کھری حدیث سناتا ہوں۳؎ہم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کیا ہمارے ساتھ ابو عبیدہ ابن جراح بھی تھے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے بہتر ہے ہم اسلام لائے ہم نے آپ کے ساتھ جہاد کیا۴؎فرمایا ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور مجھ پر ایمان لائیں گے ۵؎(احمد،دارمی)اور رزین نے ابوعبیدہ سے روایت کی ان کے اس قول سے کہ عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے اچھا ہے آخر تک۔
وَعَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ منَّا؟ أَسْلَمْنَاوَجَاهَدْنَا مَعَكَ. قَالَ: «نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوٰى رَزِينٌ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مِنْ قَوْلِهٖ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا إِلٰى آخِرِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6291 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے معاذ ابن قرہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب شام والے بگڑ جائیں گے تو تم میں بھلائی نہ ہوگی۲؎اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ فتح مند رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا وہ جو انہیں رسوا کرے حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے۳؎ابن مدینی کہتے ہیں کہ وہ حدیث والے حضرات ہیں ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی ۵؎
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيْكُمْ وَلَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ» قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6292 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ الله نے میری امت کی بھول چوک سے درگزر کی ۱؎اور جس پر وہ مجبور کیےجاویں ۲؎(ابن ماجہ بیہقی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6293 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان
روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی۲؎فرمایا تم ستر امتیں پوری کرو گے۳؎تم الله پر ان سب سے بہتر اور عزت والے ہو۴؎(ترمذی، ابن ماجہ،دارمی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔
وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى: [كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ] قَالَ: «أَنْتُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللّٰهِ تَعَالٰى»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6294 ، باب:اس امت کے ثواب کا بیان