- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
- باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ۱؎کبھی مجھ سے تف نہ فرمایا اور نہ یہ کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ یہ کہ کیوں نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَسِنِينَ فَمَا قَالَ لِي:أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5801 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے ۱؎حضور نے مجھے ایک دن کسی کام کے لیے بھیجا ۲؎میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہ جاؤں گا۳؎اور میرے دل میں یہ تھا کہ اس کام کے لئے جاؤں جس کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۴؎چنانچہ میں روانہ ہوگیا حتی کہ میں کچھ بچوں پر گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ۵؎اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑی ۶؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کی طرف دیکھا آپ ہنس رہے تھے۷؎فرمایا اے انیس کیا تم وہاں جارہے ہو۸؎جہاں جانے کا میں نے تم کو حکم دیا تھا میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ میں جارہا ہوں۹؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللّٰهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتّٰى أَمُرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5802 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا حضور پر نجرانی موٹے کنارے والی چادرتھی ۱؎حضور کو ایک بدوی نے پکڑ لیا اور حضور کو آپ کی چادر سے کھینچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینہ میں پہنچ گئے ۲؎حتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے کنارہ میں دیکھا اس کی سخت بھنچنے کی وجہ سے چادر کے کنارہ نے اثر کیا تھا ۳؎پھر بولا اے محمد اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے میرے لیے بھی حکم دیجئے ۴؎تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا پھر ہنسے پھر اس کے لیے عطا کا حکم دیا ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهٗ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهٗ بِرِدَائِهٖ جَبْذَةً شَدِيدَةً وَرَجَعَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ حَتّٰى نَظَرْتُ إِلٰى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهٖ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللّٰهِ الَّذِي عنْدك فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهٗ بِعَطَاءٍ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5803 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں بہت حسین اور سب سے زیادہ سخی سب سے زیادہ بہادر تھے ۱؎ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے تو لوگ آواز کی طرف دوڑے ۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف سے روانہ ہوئے ۳؎آپ لوگوں سے پہلے آواز کی طرف دوڑے اور کہتے جاتے تھے مت گھبراؤ ۴؎اور آپ ابو طلحہ کے ننگے گھوڑے پر تھے جس پر زین نہ تھی ۵؎اور آپ کے گلے میں تلوارتھی پھر فرمایا کہ ہم نے اسے دریا پایا ۶؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسُ إِلَى الصَّوْتِ هُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا» وَهُوَ عَلٰى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهٖ سَيْفٌ. فَقَالَ: «لَقَدْ وَجَدْتُهٗ بَحْرًا».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5804 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز نہ مانگی گئی کہ حضور نے فرمایا ہو نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5805 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان بھری ہوئی بکریاں مانگیں ۱؎حضور نے وہ سب اسے دے دیں۲؎وہ اپنی قوم کے پاس گیا بولا اے میری قوم مسلمان ہوجاؤ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عطا دیتے ہیں کہ فقیری کا خوف نہیں فرماتے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتٰى قَوْمَهٗ فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ! أَسْلِمُوا، فَوَ اللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5806 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے حنین کی واپسی کے موقعہ پر ۲؎تو بدوی لوگ حضور سے لپٹ گئے آپ سے مانگتے تھے حتی کہ آپ کو ایک خاردار درخت کی طرف لے گئے آپ کی چادر الجھ گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے فرمایا مجھے میری چادر تو دے دو۳؎اگر میرے پاس ان درختوں کی برابر جانور ہوتے تو میں تم میں تقسیم کردیتا۴؎پھر تم مجھے نہ تو کنجوس پاتے نہ جھوٹ بولنے والا نہ بزدل ۵؎(بخاری)
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهٗ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلَّقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهٗ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلٰى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهٗ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدَ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهٗ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كَذُوْبًا وَلَا جَبَانًا» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5807 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تھے تو ان کے پاس مدینہ کے لونڈی غلام اپنے برتن لے آتے تھے جن میں پانی ہوتا تھا ۱؎تو وہ کوئی برتن نہ لاتے مگر حضور اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تو بہت دفعہ وہ لوگ آپ کے پاس بہت ٹھنڈی صبح کو پانی لاتے آپ ان میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يَأْتُونَ بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهٗ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاؤُوْهُ بِالْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهٗ فِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5808 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ مدینہ والوں کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی تھی ۱؎تو جہاں چاہتی حضور کو لے جاتی تھی ۲؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَتْ أَمَةٌ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ تَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهٖ حَيْثُ شَاءَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5809 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا ۱؎اس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ سے کچھ کام ہے ۲؎تو فرمایا اے فلاں کی ماں تو سوچ لے کہ کون سی گلی پسند کرتی ہے کہ میں وہاں تیرا کام کروں۳؎تو کسی راستہ میں حضور اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے حتی کہ وہ اپنے کام(عرض و معروض)سے فارغ ہوگئی ۴؎(مسلم)
وَعَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ فَقَالَت: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لِي إِلَيْكَ حَاجَّةً فَقَالَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ حَتّٰى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ» فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتّٰى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5810 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے فحش گو اور نہ لعنت کرنے والے نہ گالی دینے والے ۱؎غصہ عتاب میں فرماتے تھے اسے کیا ہوا اس کی پیشانی میں مٹی لگ جاوے ۲؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: «مَا لَهٗ تَرِبَ جَبِينُهٗ؟» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5811 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں عرض کیا یارسول اللہ مشرکین پر بددعا کیجئے فرمایا میں بددعا کرنے والا نہ بھیجا گیا میں تو رحمت ہی بھیجا گیا ہوں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قِيلَ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ عَلَى المُشْرِكِينَ. قَالَ: إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5812 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی زیادہ شرمیلے تھے جیسی کنواری لڑکی اپنے پردے میں شرمیلی ہوتی ہے ۱؎اور جب کوئی ناپسند چیز دیکھتے تو ہم چہرہ انور میں اسے پہچان لیتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا فَإِذَا رَأٰى شَيْئًا يَكْرَهُهٗ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5813 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے فرماتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی پورا کھل کر ہنستا نہ دیکھا حتی کہ میں آپ کے کوے دیکھ لیتی ۱؎آپ تبسم ہی فرمایا کرتے تھے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ (رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا) قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ وَإِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5814 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری جلدی کی طرح بات جلدی جلدی نہ کرتے تھے آپ باتیں یوں کرتے تھے کہ اگر کوئی گننے والا گننا چاہتا تو انہیں گن لیتا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ العَادُّ لَأَحْصَاهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5815 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے اسود سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے ۲؎آپ نے کہا کہ اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے یعنی گھر والوں کا کام کرتے تھے ۳؎پھر جب نماز آجاتی تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۴؎(بخاری)
وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مَهْنَةِ أَهْلِهٖ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهٖ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5816 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نہیں اختیار دیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں کبھی بھی مگر حضور نے ان میں سے آسان کو اختیار کیا ۱؎جب تک کہ گناہ نہ ہوتا لیکن اگر گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ دور ہوتے ۲؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی چیز میں بدلہ نہ لیا مگر یہ کہ اللہ تعالٰی کے دین کی حرمت توڑی جاتی تو اللہ کے لیے اس کا بدلہ ضرور لیتے ۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهٖ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ بِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5817 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے انہیں سے کہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہ مارا ۱؎نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو ۲؎مگر یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ۳؎اور ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ سے کوئی چیز پائی جاوے ۴؎پھر آپ اس کرنے والے سے بدلہ لیتے مگر اس صورت میں کہ اللہ کی محرمات میں سے کوئی حرمت توڑ دی جاتی تو اللہ کے لیے اس کا بدلہ لیتے تھے ۵؎(مسلم)
وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لنَفسِهٖ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهٖ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمُ مِنْ صَاحِبِهٖ إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5818 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت خدمت کی جب کہ میں آٹھ سال کا تھا ۱؎میں نے حضور کی دس سال خدمت کی تو مجھے کبھی کسی چیز پر ملامت نہ کی جسے میرے ہاتھ پر خرابی پہنچتی۲؎اگر آپ کے گھر والوں میں سے کوئی مجھے ملامت کرتا تو فرماتے جانے دو۳؎اگر کچھ اور مقدر میں ہوتا تو وہ ہوتا ۴؎یہ مصابیح کے لفظ ہیں اور بیہقی نے شعب الایمان میں کچھ معمولی فرق سے روایت کی۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ خَدَمْتُهٗ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا لَامَنِي عَلٰى شَيْءٍ قَطُّ أَتٰى فِيهِ عَلٰى يَدَيَّ فَإِنْ لَامَنِي لَائِمٌ مِنْ أَهْلِهٖ قَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهٗ لَوْ قُضِيَ شَيْءٌ كَانَ . هٰذَالَفَظُ الْمَصَابِيحِ وَرَوَى البَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5819 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفًا ۱؎نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے۲؎اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۳؎(ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5820 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان
- 1
- 2