باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ بیماروں کی مزاج پرسی کرتے تھے اور جنازوں کے ساتھ جاتے تھے ۱؎غلام کی دعوت قبول کرلیتے تھے۲؎اور دراز گوش پر سوار ہوتے تھے میں نے خیبر کے دن دیکھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے جس کی مہار پوست کھجور کی تھی ۳؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَنَسٍ يُحَدِّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَعُودُ المَرِيْضَ، وَيَتْبَعُ الْجِنَازَةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ لَقَدْ رَأَيْتُهٗ يَوْمَ خَيْبَرَ عَلٰى حِمَارٍ خِطَامُهٗ لِيفٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5821 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا شریف درست کرلیتے تھے اپنے کپڑے سی لیتے تھے ۱؎اور اپنے گھر میں ایسے ہی کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے،فرماتی ہیں آپ بشروں میں سے۲؎ایک کی سی زندگی رکھتے تھے اپنے کپڑوں کی جوئیں دیکھتے تھے۳؎اپنی بکری دوھ لیتے تھے اپنے کام خود کرتے تھے۴؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهٗ وَيَخِيطُ ثَوْبَهٗ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهٖ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهٖ وَقَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهٗ وَيَحْلُبُ شَاتَهٗ وَيَخْدُمُ نَفْسَهٗ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5822 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت خارجہ ابن زید ابن ثابت ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ایک جماعت زید ابن ثابت کے پاس آئی وہ بولے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنایئے فرمایا کہ میں حضور کا پڑوسی تھا۲؎تو جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو مجھے بلاتے میں اسے لکھتا تو جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تو آپ بھی وہ ہی ذکر کرتے تھے۳؎ہمارے ساتھ میں اور جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ وہ ہی ذکر کرتے اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ وہ ہی ذکر کرتے ۴؎یہ تمام باتیں میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر دے رہا ہوں ۵؎(ترمذی)

وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ عَلٰى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا لَهٗ: حَدِّثْنَا أَحَادِيثَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ جَارَهٗ فَكَانَ إِذَا نزَلَ الْوَحْيُ بَعَثَ إِلَيَّ فَكَتَبْتُهٗ لَهٗ فَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهٗ مَعَنَا فَكُلُّ هٰذَاأُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5823 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص سے مصافحہ کرتے تھے تو اپنا ہاتھ نہ کھینچتے حتی کہ وہ ہی اپنا ہاتھ کھینچتا تھا ۱؎اور آپ اپنا منہ اس کے منہ سے نہیں پھیرتے تھے حتی کہ وہ ہی اپنا منہ حضور کے چہرے سے پھیرتا اور حضور کو کبھی نہ دیکھا گیا کہ حضور اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے پھیلا کر بیٹھے ہوں۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَافَحَ الرَّجُلَ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهٗ مِنْ يَدِهٖ حَتّٰى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُ يَدَهٗ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهٗ عَنْ وَجْهِهٖ حَتّٰى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهٗ عَنْ وَجْهِهٖ وَلَمْ يُرَ مُقَدِّماً رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5824 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے انہیں سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5825 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دراز خاموشی والے تھے ۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. رَوَاهُ فِي « شَرْحِ السُّنَّةِ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5826 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام شریف میں آہستگی اور ٹھہراؤ تھا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ فِي كَلَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْتِيلٌ وَتَرْسِيلٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5827 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری اس جلدی کی طرح کلام میں جلدی نہیں کرتے تھے ۱؎لیکن ایسے کلام کرتے تھے جس کے درمیان فاصلہ ہوتا تھا جو آپ کی خدمت میں بیٹھتا وہ حفظ کرلیتا تھا ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هٰذَاوَلَكِنَّهٗ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهٗ فَصْلٌ يَحْفَظُهٗ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5828 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جزء سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہ دیکھا ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5829 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سلام سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب باتیں کرنے بیٹھتے تو اپنی نگاہ شریف آسمان کی طرف زیادہ اٹھاتے تھے۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَتَحَدَّثُ يُكْثِرُ أَنْ يَرْفَعَ طَرْفَهٗ إِلَى
السَّمَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5830 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن سعید سے وہ حضرت انس سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو بال بچوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مہربان ہو ۱؎آپ کے فرزند ابراہیم۲؎بیرون مدینہ میں شیرخوارگی کرتے تھے ۳؎تو آپ تشریف لے جاتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں تشریف لے جاتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھا ان کا رضاعی والد لوہار تھا ۴؎آپ بچے کو لیتے اسے چومتے پھر لوٹ آتے ۵؎حضرت عمرو نے فرمایا پھر جب ابراہیم وفات پاگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بچہ ابراہیم شیرخوارگی میں وفات پاگیا ۶؎اس کے لیے دو دوائیاں مقرر ہیں جو اس کی شیر خوارگی جنت میں پوری کریں ۷؎(مسلم)

عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهٗ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهٗ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهٗ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهٗ قَيْنًا فَيَأْخُذُهٗ فَيُقَبِّلُهٗ ثُمَّ يَرْجِعُ. قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهٗ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهٗ لَظِئْرَيْنِ تُكْمِلَانِ رَضَاعَهٗ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5831 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی جس کا نام فلاں پادری تھا ۱؎اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دینار قرض تھے۲؎اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کیا۳؎حضور نے اس سے فرمایا کہ اے یہودی میرے پاس کچھ نہیں ہے جو تجھے دوں۴؎وہ بولا کہ میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں حتی کہ آپ مجھے قرضہ ادا کردیں ۵؎تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تب تو میں تیرے ساتھ ہی بیٹھوں گا آپ اس کے ساتھ بیٹھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب عشاء آخری اور فجر کی نمازیں پڑھیں ۶؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اسے ڈراتے دھمکاتے تھے۷؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا ۸؎جو وہ اس کے ساتھ کرتے تھے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ایک یہودی آپ کو روکے ہوئے ہے ۹؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کسی عہد والے کافر وغیرہ پر ظلم کروں۱۰؎پھر جب دن چڑھ گیا تو یہودی بولا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۱۱؎اور میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں ہے ۱۲؎حضور جو کچھ میں نے آپ کے ساتھ برتاؤ کیا یہ صرف اس لیے کہ میں آپ میں صفات دیکھ لوں جو توریت میں ہیں ۱۳؎کہ محمدعبداللہ کے بیٹے ہیں،ان کی جائے ولادت مکہ اور جائے ہجرت طیبہ ہے اور ان کی سلطنت شام میں ہے ۱۴؎نہ تو سخت دل ہیں نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے،نہ تو بری باتوں سے متصف ہیں اور نہ سخت کلام برے کلام سے۱۵؎میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ ہے میرا مال آپ اس میں وہ فیصلہ فرمائیں جو اللہ آپ کو دکھائے ۱۶؎یہودی بہت بڑا مال دار تھا ۱۷؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْ عَليٍّ: أَنَّ يَهُودِيًّا يُقَالُ لَهٗ: فُلَانٌ حَبْرٌ كَانَ لَهٗ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَنَانِيرُ فَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ: «يَا يَهُودِيُّ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ» . قَالَ: فَإِنِّي لَا أُفَارِقُكَ يَا مُحَمَّدُ حَتّٰى تُعْطِيَنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا أَجْلِسُ مَعَكَ» فَجَلَسَ مَعَهٗ فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالْغَدَاةَ وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَدَّدُونَهٗ وَيَتَوَعَّدُونَهٗ فَفَطِنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الَّذِي يَصْنَعُونَ بِهٖ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَهُودِيٌّ يَحْبِسُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنَعَنِي رَبِّي أَنْ أَظْلِمَ مُعَاهِدًا وَغَيْرَهُ» فَلَمَّا تَرَجَّلَ النَّهَارُ قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ وَشَطْرُ مَالِي فِي سَبِيلِ اللهِ أَمَا وَاللّٰهِ مَا فَعَلْتُ بِكَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ إِلَّا لِأَنْظُرَ إِلٰى نَعْتِكَ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ مَوْلِدُهٗ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهٗ بِطَيْبَةَ وَمُلْكُهٗ بِالشَّامِ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا مُتَزَيٍّ بِالْفُحْشِ وَلَا قَوْلِ الْخَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ وَهٰذَامَالِي فَاحْكُمْ فِيهِ بِمَا أَرَاكَ اللّٰهُ وَكَانَ الْيَهُودِيُّ كَثِيرَ المَالِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5832 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر زیادہ کرتے تھے اور دنیاوی کلام بہت کم کرتے تھے ۱؎اور نماز دراز کرتے تھے اور خطبہ چھوٹا پڑھتے تھے۲؎اور بیوگان، مساکین کے ساتھ چلنے سے عار نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی حاجت پوری فرمادیں۳؎(نسائی، دارمی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي أَوْفٰى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ و وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5833 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے کہ ابوجہل نے ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ۲؎لیکن ہم تو اسے جھٹلاتے ہیں جو آپ لائے ہیں ۳؎تب اللہ تعالٰی نے ان کے بارے میں آیت اتاری کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے ہیں ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إنَّا لَا نُكذِّبكَ وَلٰكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهٖ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى فِيهِمْ: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّٰهِ يَجْحَدُونَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5834 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عائشہ اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں ۱؎میرے پاس ایک فرشتہ آیا جس کی کمر کعبہ کے برابرتھی۲؎اس نے عرض کیا کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو بندگی والے نبی بنیں اور اگر چاہیں تو بادشاہ نبی بنیں ۳؎تو میں نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا۴؎تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ اپنی ذات میں انکسار کریں ۵؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَائِشَةُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِيَ جِبَالُ الذَّهَبِ جَاءَنِي مَلَكٌ وَإِنَّ حُجْزَتَهٗ لَتُسَاوِي الْكَعْبَةَ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا فَنَظَرْتُ إِلٰى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5835 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان

اور حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کی طرف دیکھا ان سے مشورہ لینے والے کی طرح تو جناب جبریل نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ انکسارکریں ۱؎میں نے کہا کہ میں بندگی والا نبی رہوں گا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگا کر نہیں کھاتے تھے فرماتے تھے میں ایسے ہی کھاؤں گا جیسے بندے کھاتے ہیں اور ایسے ہی بیٹھوں گا جیسے بندے بیٹھتے ہیں ۲؎(شرح سنہ)

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى جِبْرِيلَ كَالْمُسْتَشِيرِ لَهٗ فَأَشَارَ جِبْرِيلُ بِيَدِهٖ أَنْ تَوَاضَعْ. فَقُلْتُ: «نَبِيًّا عَبْدًا»قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذٰلِكَ لَا يَأْكُلُ مُتَّكِأً يَقُولُ: «آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ العبدُ» رَوَاهُ فِي « شَرْحِ السُّنَّةِ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5836 ، باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان