باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی جس کا قیامت کے دن حساب لیا جاوے گا ۱∞؎مگر وہ ہلاک ہوجاوے گا میں نے عرض کیا کہ کیا الله تعالٰی یہ نہیں فرماتا کہ اس کا حساب آسان لیا جاوے گا۲؎فرمایا یہ تو صرف پیشی ہوگی لیکن جس سے حساب میں جرح کرلی گئی۳؎وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ". قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} فَقَالَ: "إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ فِي الْحِسَاب يَهْلِكُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5549 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے تم میں سے کوئی مگر اس سے اس کا رب کلام کرے گا ۱∞؎اس کےاور رب کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا ۲؎اور نہ پردہ جو اس کے لیے آڑ ہو تو وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر وہ ہی عمل جو آگے بھیجے اور اپنے بائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر وہ ہی جو آگے بھیجےاور اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا نہ دیکھے گا اپنے سامنے۳؎تو تم آگ سے بچو اگرچہ کھجور کی قاش سے۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْكُم مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5550 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی مسلمانوں کو قریب کرے گاتو اس پر اپنا پردہ رکھے گا ۱∞؎اور اسے چھپائے گا۲؎پھر فرمائے گا کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے، کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے وہ کہے گا ہاں یارب۳؎حتی کہ اس سے اس کے سارے گناہوں کا اقرار کرالے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ ہلاک ہوا۴؎رب فرمائے گا کہ میں نے یہ عیوب دنیا میں چھپالیے تھے۵؎اور آج انہیں بخشتا ہوں۶؎پھر اس کی نیکیوں کی تحریر اسے دی جاوے گی۷؎لیکن کفارومنافقین انہوں کو مخلوق کے سامنے پکارا جاوے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے رب پر جھوٹ بولے آگاہ رہو! کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْب كَذَا؟ فَيَقُول: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّى قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، وَرَأى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ: {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5551 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو الله ہر مسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی عطا فرمائے گا تو کہے گا کہ یہ تیرا فدیہ ہے آگ سے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا، فَيَقُولُ: هَذَا فكَاكُكَ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5552 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کی تھی وہ عرض کریں گے ہاں یارب ۱∞؎پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم کو تبلیغ کی گئی تھی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا فرمایا جاوے گا اے نوح! تمہارے گواہ کون ہیں۲؎عرض کریں گے محمد مصطفےٰ اور ان کی اُمت،حضور نے فرمایا کہ پھر تمہیں کہہ دیا جاوے گا تم گواہی دو گے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۳؎پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول تمہارے نگران گواہ ہوں۴؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ! فَتُسْأَلُ أُمَّتُهُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُهُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فَيُجَاءُ بِكُمْ فَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بلَّغَ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا}. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5553 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور ہنسے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا الله اور اس کا رسول خوب جانیں ۱∞؎فرمایا بندے کے اپنے رب سے عرض معروض کرنے پر عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے ظلم سے امان نہیں دی فرمائے گا ہاں فرمایا تو بندہ کہے گا کہ میں اپنی ذات پر کوئی گواہی روا نہیں رکھتا مگر اپنے میں سے گواہ ۲؎فرمایا کہ رب فرمائے گا آج تو ہی اپنے نفس پر کافی گواہ ہے اورکرامًا کاتبین فرشتے گواہ ہیں۳؎فرمایا پھر اس کے منہ پر مہر کردی جائے گی۴؎پھر اس کے اعضاء سے کہا جاوے گا بولو فرمایا وہ اس کے اعمال کے متعلق کلام کریں گے۵؎پھر بندے اور اس کے کلام کے درمیان خلوت کردی جائے گی۶؎فرمایا کہ وہ کہے گا کہ تمہیں دوری اور ہلاکت ہو میں تمہیں سے دفع کرتاتھا ۷؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَضَحِكَ فَقَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ ". قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ: يَا رَبِّ! أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ "قَالَ: "يَقُولُ: بَلَى"، قَالَ: "فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي". قَالَ: "فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا". قَالَ: "فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي". قَالَ: "فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ". قَالَ: "فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5554 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ۱∞؎فرمایا کیا تم دوپہری میں جب کہ سورج بادل میں نہ ہو اس کے دیکھنے میں کچھ تردد کرتے ہو لوگ بولے نہیں ۲؎تو کیا تم چودھویں رات چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو جب کہ وہ بادل میں نہ ہو عرض کیا نہیں،فرمایا تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اپنے رب کے دیکھنے میں نہیں شک کرو گے مگر جیساکہ شک کرتے ہو تم۳؎ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں،فرمایا رب بندے سے ملے گا ۴؎فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی،تجھے سردار نہیں بنایا،تجھے بیوی نہیں دی،گھوڑے اونٹ کو تیرا فرمانبردار نہیں کیا اور تجھے نہ کہاکہ تو سردار بنے چہارم غنیمت سے وہ کہے گا ۵؎ہاں پھر فرمائے گا کیا تجھے یقین تھا کہ تو مجھ سے ملے گا عرض کرے گا نہیں ۶؎فرمائے گا میں تجھے بھولا ہوا چھوڑتا ہوں ۷؎جیسے تو نے مجھے بھلا دیا تھا پھر دوسرے بندے سے ملے گا اس طرح ذکر فرمایا ۸؎پھر تیسرے بندے سے ملے گا اس کی مثل فرمائے گا وہ عرض کرے گا الٰہی میں تجھ پر تیری کتاب پر تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا میں نے نمازیں پڑھی ہیں روزہ رکھے خیرات کی جہاں تک ہوسکے گا اپنی تعریفیں کرے گا ۹؎تو رب فرمائے گا اچھا تو تو یہاں ہی ٹھہر۱۰؎پھر فرمایا جاوے گا اب ہم تجھ پر گواہ لائیں گے وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ ایسا کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا ۱۱∞؎تب اس کے منہ پر مہر کردی جاوے گی اور اس کی ران سے کہا جاوے گا کہ تو بول،اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بتائیں گی۱۲؎یہ اس لیے ہوگا تاکہ بندہ کے عذر دور کر دے۱۳؎یہ بندہ منافق ہوگا،یہ وہ ہوگا جس سے الله ناراض ہے۱۴؎(مسلم)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی میری امت میں سے جنت میں جائیں گے باب توکل میں بروایت حضرت ابن عباس روایت کردی گئی ۱۵؎

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَة؟ قَالَ: "فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ:"فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا". قَالَ: "فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ!أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى"، قَالَ: "فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نسَيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مثل ذَلِك، فَيَقُول: يَا رَبِّ! آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ،ويُثْنِي بِخَيْرِ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُول: هَاهُنَا إِذًا، ثم يُقَالُ: الآنَ نَبْعَثْ شَاهِدًا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي سخطَهُ اللَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ" فِي "بَابِ التَّوَكُّلِ" بِرِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5555 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمالیا ہے کہ میری امت میں سے ستر۷۰ ہزار کو جنت میں اس طرح داخل فرمائے گا کہ نہ ان کا حساب ہوگا نہ عذاب ۱∞؎ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ۲؎اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ:"وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ ألفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5556 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت حسن سے ۱∞؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی دو پیشیاں تو بحث اور معذرت کی ہیں۲؎اور رہی تیسری پیشی تو اس وقت نامہ اعمال ہاتھوں میں اڑ کر پہنچ جائیں گے۳؎بعض داہنے ہاتھوں میں لیں گے بعض بائیں ہاتھوں میں۴؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں ۵؎

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ، وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ،وَقَالَ: لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5557 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

بعض محدثین نے یہ حدیث بروایت حسن عن ابی موسیٰ روایت کی ہے ۱؎

وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبَي مُوسَى.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5558 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو رضی اللہ عنھماسے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی میری امت میں سے ایک شخص کو قیامت کے دن مخلوق کے سامنے چھانٹے گا ۱∞؎تو اس کے سامنے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے ہر دفتر تاحد بصر ہوگا۲؎پھر فرمائے گا کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکارکرتا ہے۳؎کیا تجھ پر میرے نگران کاتبین نے ظلم کیا ہے عرض کرے گا نہیں یارب پھر فرمائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے عرض کرے گا نہیں ۵؎یارب تو فرمائے گا ہمارے پاس تیری ایک نیکی بھی ہے اور تجھ پر ظلم آج نہ ہوگا ۶؎تو ایک ورقہ نکالا جاوے گا جس میں ہوگااشہد ان لا الہ الا الله وان محمدا عبدہ و رسولہ۷؎رب فرمائے گا جا اپنے تول پر حاضر ہو ۸؎وہ کہے گا یا رب یہ ورقہ ان دفتروں کے مقابل کیا ہے ۹؎رب فرمائے گا کہ تو ظلم نہیں کیا جائے گا فرمایا کہ پھر یہ دفتر ایک پلے میں اور یہ پرچے دوسرے پلہ میں رکھا جائے گا۱۰؎تو یہ دفتر ہلکے ہوجائیں گے اوروہ پرچہ بھاری ہوجاوے گا ۱۱∞؎الله کے نام کے مقابل کوئی چیز وزنی نہ ہو گی ۱۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُوْنَ؟ فَيَقُولُ: لَا، يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ قَالَ: لَا، يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتُخْرَجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ،فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5559 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہیں دوزخ یاد آگئی تو رونے لگیں تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تمہیں کون سی چیز رلاتی ہے بولیں مجھے آگ یاد آگئی تو میں رو پڑی ۱∞؎اے مردو! کیا تم قیامت میں اپنے گھر والوں کو یاد کرو گے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تین موقعوں میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا: میزان کے پاس حتی کہ جان لے کہ اس کا وزن ہلکا ہے یا بھاری اور نامہ اعمال ملنے کے وقت جب کہا جاوے آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو حتی کہ جان لے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں پڑتا ہے اس کے داہنے ہاتھ میں یا بائیں میں پیٹھ کے پیچھے اور پلصراط کے نزدیک جب کہ وہ دوزخ کے کناروں کے درمیان رکھا جاوے گا ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا يُبْكِيكِ؟ ". قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أم فِي شِمَاله؟ أم مِنْ وَرَاءَ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضعَ بينَ ظَهْري جَهَنَّم". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5560 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص حاضر ہوا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے سامنے بیٹھ گیا عرض کرنے لگا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں ۱∞؎تو ان کے متعلق میرا کیا حال ہوگا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان خیانتوں نافرمانیوں اورجھوٹوں کا اور تیرا انہیں سزا دینے کا حساب لگایا جاوے گا۲؎پھر اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے جرموں کے بقدر ہوگی تو ادلًا بدلًا ہوجاوے گا نہ تجھے مفید نہ مضر ۳؎اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصوروں سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی۴؎اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جاوے گا ۵؎تو وہ آدمی الگ ہٹ گیا اور چیخیں مارنے رونے لگا۶؎تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو رب کایہ فرمان نہیں پڑھتا کہ ہم قیامت کے دن انصاف والی ترازو رکھیں گے ۷؎تو کوئی جان کچھ بھی ظلم نہیں کی جاوے گی اگر رائی کے دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لائیں گے،ہم کافی حساب لینے والے ہیں۸؎تو وہ شخص بولا یارسول الله میں اپنے اور ان غلاموں کے لیے انکی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سارے آزاد ہیں ۹؎(ترمذی)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي، وَيَخُونُونَنِي، وَيَعْصُونَنِي، وَأَشْتِمُهُمْ وَأَضْرُبهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ، وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذَنْبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ، فَتَنَحَّى الرَّجُلُ وَجَعَلَ يَهْتِفُ وَيَبْكِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَمَا تَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} " [الأنبياء: 47]، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ، أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ كُلَّهُمْ أَحْرَارٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5561 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو اپنی بعض نمازوں میں فرماتے سنا الٰہی مجھ سے آسان حساب لے ۱∞؎میں نے عرض کیا یا نبی الله ! آسان حساب کیا چیز ہے ۲؎فرمایا یہ ہے کہ اس کے نامہ اعمال پر نظر کرادی جاوے پھر اسے معافی دے دی جاوے۳؎جس سے حساب میں اس دن جرح کرلی گئی اے عائشہ وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(احمد)

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: "أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيُتَجَاوَزَ عَنْهُ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَة! هَلَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5562 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا مجھے خبر دیجئے کہ قیامت کے دن کھڑے ہونے پر کون قدرت رکھے گا جس کے متعلق الله عزوجل نے فرمایا کہ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے ۱∞؎تو فرمایا کہ وہ دن مؤمن پر ہلکا کردیا جاوے گا حتی کہ اس پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجاوے گا ۲؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَنْ يَقْوَى عَلَى الْقِيَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ}، فَقَالَ: ، يُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ عَلَيْهِ كَالصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5563 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے اس دن کے متعلق پوچھا گیا ۱∞؎جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ اس دن کی کتنی درازی ہے ۲؎تو فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ دن مؤمن پر ہلکا کردیا جاوے گا حتی کہ اس پر اس فرض نماز سے بھی زیادہ آسان ہوجاوے گا جسے وہ دنیا میں پڑھتا تھا۳؎(بیہقی کتاب البعث والنشور)

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ {يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ} مَا طُولُ هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَهْوَنَ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ "الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5564 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں جمع کیے ۱∞؎جاویں گے توپکارنے والا پکارے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے۲؎پس وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے۳؎تو وہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۴؎پھر باقی تمام لوگوں کو حساب کی طرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۵؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَسمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَة فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ؟ فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ،فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثمَّ يُؤمَرُ لِسَائِر النَّاسِ إِلَى الْحِسَابِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5565 ، باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان