باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بدفالی کچھ نہیں ۱∞؎بہترین چیز فال ہے لوگوں نے عرض کیا فال کیا چیز ہے فرمایا وہ اچھا لفظ جسے تم میں کوئی سنے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4576 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑکر لگنا ہے ۱∞؎نہ پرندہ نہ الو ۲؎نہ صفر کوئی چیز ہے۳؎اور کوڑھی سے ایسے بھاگے جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۴؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوٰى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4577 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑ کر لگنا ہے نہ کوئی چیز ہے اور نہ صفر تو ایک دیہاتی نے عرض کیا یارسول اللہ اونٹ کا کیا حال ہے کہ وہ ریگستان میں ہرن کی طرح ہوتا ہے ۱∞؎پھر اس سے خارشی اونٹ ملتا ہے تو اسے خارشی کردیتا ہے۲؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کردیا۳؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوٰى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ» . فَقَالَ أَعْرَابِيٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيُجْرِ بُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4578 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بیماری کا اڑکر لگنا ہے نہ الو ہے نہ برج ہے اور نہ صفر ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوٰى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4579 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ تعدی کوئی چیز ہے نہ صفر نہ بھوت ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا عَدْوٰى وَلَا صَفَرَ وَلَا غَوْلَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4580 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شرید سے وہ اپنے والد سے فرمایا انہوں نے کہ ثقیف کے وفد میں ۱∞؎ایک کوڑھی آدمی تھا تو اس کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ ہم نے تجھ کو بیعت کرلیا تو لوٹ جا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4581 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اچھی فال تو لیتے تھے بد فالی نہ لیتے تھے ۱∞؎اور اچھا نام پسند فرماتے تھے ۲؎(شرح سنہ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَكَانَ يُحِبُّ الِاسْمَ الْحَسَنَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4582 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے قطن ابن قبیصہ سے وہ اپنے والد سے راوی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیافت اور کنکر پھینکنا ۱∞؎اور پرندے اڑانا بتوں میں سے ہے۲؎(ابو داؤد)

وَعَنْ قَطَنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعِيَافَةُ وَالطَّرْقُ وَالطِّيَرَةُ مِنَ الْجِبْتِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4583 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا پرندے اڑانا شرک سے ہے ۱∞؎یہ تین بار فرمایا اور نہیں ہے ہم سے کوئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے لے جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد و ترمذی)فرمایا ترمذی نے کہ میں نے محمد بن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ سلیمان ابن حرب اس حدیث کے بارے میں فرماتے تھے۳؎کہوما منا الا و لکن الله یذھبہ بالتوکلمیرے نزدیک یہ ابن مسعود کا قول ہے ۴؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الطِّيَرَةُ شِرْكٌ قَالَهٗ ثَلَاثًا وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُذْهِبُهٗ بِالتَّوَكُّلِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ يَقُولُ فِي هٰذَا الْحَدِيثِ: وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُذْهِبُهٗ بِالتَّوَكُّلِ . هٰذَا عِنْدِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4584 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اسے پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا کھا اللہ پر بھروسہ اسی پر توکل ہے ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهٗ فِي الْقَصْعَةِ وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللّٰهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4585 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ابن مالک سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو الو کوئی شئے ہے اور نہ مرض کا اڑکر لگنا نہ نحوست،اگر کسی چیز میں نحوست ہو تو گھر میں، گھوڑے اور عورت میں ہوگی ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوٰى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْفَرْسِ وَالْمَرأَةِ ».رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4586 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لیے روانہ ہوتے تو آپ کو یہ پسند تھا کہ سنیں اےراشداےنجیح۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهٗ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ أَنْ يَسْمَعَ: يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4587 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ (رضی اللہ عنہ)سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض چیزوں سے فال لیتے تھے چنانچہ آپ جب کسی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام آپ کو پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے ۱∞؎اور اس کی خوشی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے میں دیکھی جاتی ۲؎اور جب کسی بستی میں جاتے تو اس کا نام پوچھتے تو اگر اس کا نام پسند فرماتے تو اس سے خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپ کے چہرہ انور میں دیکھی جاتی اور اگر اس کا نام ناپسند فرماتے تو آپ کے چہرہ میں اس کی ناپسندیدگی محسوس ہوتی ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ فَإِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنْ اِسْمِهٖ فَإِذَا أَعْجَبَهٗ اسْمُهٗ فَرِحَ بِهٖ وَرُئِيَ بِشْرُ ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهٗ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذٰلِكَ على وَجْهِهٖ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهٗ اسْمُهَا فَرِحَ بِهٖ وَرُئِيَ بِشْرُ ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَة ذٰلِكَ فِي وَجْهِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4588 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم ایک گھر میں تھے جس میں ہماری تعداد اور ہمارے مال زیادہ ہوگئے پھر ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے جس میں ہماری تعداد و مال گھٹ گئی تو فرمایا اسے برا کر کے چھوڑ دو ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثُرَ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا فَتَحَوَّلْنَا إِلٰى دَارٍ قَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « ذَرُوهَا ذَمِيمَةً » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4589 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے یحیی ابن عبداللہ بن بحیر سے فرماتے ہیں کہ مجھے اس نےخبر دی جس نے فروہ ابن مسیک کو کہتے سنا ۱∞؎کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے ۲؎اور وہ ہماری باغ اور کھیتی کی زمین ہے۳؎اور اس کی وبا بہت سخت ہے تو فرمایا اسے اپنے سے جدا کردو کیونکہ قرف سے ہلاکت ہے۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بَحِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ عِنْدَنَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا أَبْيَنُ وَهِيَ أَرْضُ رِيفِنَاوَمِيرَتِنَا وَإِنَّ وَبَاءَهَا شَدِيدٌ. فَقَالَ: «دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ القَرَفِ التَّلَفَ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4590 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان

روایت ہے حضرت عروہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا ۱∞؎تو فرمایا ان میں اچھی فال ہے اورکسی مسلمان کو نہ لوٹائے ۲؎تو جب تم میں سے کوئی وہ دیکھے جسے ناپسند کرتا ہو تو کہہ دے الٰہی بھلائیاں تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیاں تیرے سوا کوئی نہیں دور کرتا، نہیں ہے طاقت اور نہیں ہے قوت مگر اللہ سے ۳؎(ابوداؤد ارسالًا)

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَحْسَنُهَا الْفَأْلُ وَلَا تَرُدُّ مُسْلِمًا فَإِذَا رَأٰى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ ". رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4591 ، باب:فال اور بدفال لینے کا بیان