- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
باب:ظلم کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں تاریکیاں ہوگا ۱∞؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5123 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله ظالم کو مہلت دیتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں ۱∞؎پھر یہ آیت تلاوت کی آپ کے رب کی پکڑ ایسی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے حالانکہ وہ بستیاں ظالم ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتّٰى إِذَا أَخَذَهٗ لَمْ يُفْلِتْهُ» ثُمَّ قَرَأ (وَكَذٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ) الْآيَة. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5124 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مقامِ حجر میں گزرے ۱∞؎تو فرمایا ظالموں کے گھروں میں نہ داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر اس طرح جاؤ کہ تم اس خوف سے روتے ہو کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچے ۲؎جو انہیں پہنچا پھر اپنا سر جھکا لیا اور رفتار تیز فرمالی حتی کہ اس علاقے کو طے کرلیا۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ:«لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ» ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهٗ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى اجْتَازَ الْوَادِيَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5125 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس کا اپنے بھائی مسلمان پرکوئی ظلم ہو اس کی آبرو کا یا کسی اور چیز کا ۱∞؎وہ اس سے آج ہی معافی لے لے۲؎اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم۳؎اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو بقدر ظلم اس سے چھین لیے جائیں گے۴؎اور اگر اس کے نیکیاں نہ ہوں گی ۵؎تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۶؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ كَانَتْ لَهٗ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهٖ أَوْ شَيْءٍ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهٖ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهٖ فَحُمِلَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5126 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس و کنگال کون ہے ۱∞؎صحابہ رضی الله عنہم نے عرض کیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ سامان ۲؎تو فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے زکوۃ لے کر آیا۳؎اور یوں آئے کہ اسے گالی دی،اسے تہمت لگائی ،اس کا مال کھایا،اس کا خون بہایا،اسے مارا۴؎تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جاویں اور کچھ اس مظلوم کو ۵؎پھر اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجاویں ۶؎تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جاویں ۷؎پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے ۸؎(مسلم)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟». قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَادِرْهَمَ لَهٗ وَلَا مَتَاعَ.فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هٰذَا وَقَذَفَ هٰذَا. وَأَكَلَ مَالَ هٰذَا. وَسَفَكَ دَمَ هٰذَا وَضَرَبَ هٰذَا فَيُعْطٰى هٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهٗ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ". » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5127 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم لوگ حقوق حق والوں کے سپردکرو گے قیامت میں ۱∞؎حتی کہ منڈی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جاوے گا ۲؎(مسلم)حضرت جابر کی حدیثاتقوا الظلم باب الانفاقمیں ذکر کی جاچکی ہے۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلٰى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: "اتَّقُوا الظُّلمَ" فِي "بَابِ الإِنْفَاقِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5128 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم لوگ تابع نقال نہ بنو ۱∞؎کہ کہو اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے ۲؎لیکن اپنے نفس کو قرار دو کہ لوگ بھلائی کریں تو تم بھی بھلائی کرو اور اگر لوگ برائی کریں تو تم ظلم نہ کرو(ترمذی)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا وَلٰكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاؤُوْا فَلَا تَظْلِمُوا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5129 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱∞؎کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو لکھا کہ آپ مجھے خط لکھیں جس میں مجھے وصیت کریں اور زیادہ نہ کریں ۲؎آپ نے انہیں لکھا کہ تم پر سلام ہو بعد اس کے کہتی ہوں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کی خوشنودی لوگوں کی ناراضی سے کفایت کرے گا الله اسے لوگوں کی مصیبت سے بچائے گا۳؎اور جو کوئی خوشنودی الله کی ناراضی سے تلاش کرے گا۴؎تو الله اسے لوگوں کے حوالے کردے گا ۵؎السلام علیک ۶؎(ترمذی)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهٗ كَتَبَ إِلٰى عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللّٰهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللّٰهُ مَؤُوْنَةَ النَّاسِ، وَمنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰهِ وَكَلَهُ اللّٰهُ إِلَى النَّاسِ" وَالسَّلَامُ عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5130 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ۱∞؎تو یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ پر گراں گزری۲؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله ہم میں سے کون ہے کہ جس نے اپنے پرظلم نہ کیا ہو۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ مراد نہیں ظلم تو شرک ہے۴؎کیا تم نے لقمان کا فرمان اپنے فرزند سے نہ سنا کہ اے میرے بچے شریک نہ ٹھہرا بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو تم سمجھتے ہو وہ مراد نہیں یہ تو ایسا ہے جیسا لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا ۶؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ{الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ}شَقَّ ذٰلِكَ عَلٰى أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ!: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهٖٗ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهٖ(يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ؟) فِي رِوَايَةٍ:«لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَان لِابْنِهٖ » . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5131 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں بدترین درجہ والا قیامت کے دن وہ بندہ ہے جو دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کردے ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهٗ بِدُنْيَا غَيْرِهٖ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5132 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دفتر تین قسم کے ہیں ۱∞؎ایک وہ دفتر جسے الله نہ بخشے گا وہ الله کا شریک ٹھہرانا ہے ۲؎الله تعالٰی فرماتا ہے کہ الله نہ بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جاوے۳؎اور ایک وہ دفتر ہے جسے الله چھوڑے گا نہیں ۴؎وہ بندوں کے آپس کے ظلم ہیں حتی کہ بدلہ لے گا ان کے بعض کا بعض سے ۵؎اور ایک دفتر وہ ہے جس کی الله تعالٰی پرواہ نہیں کرتا وہ بندوں کا اپنے اور الله کے درمیان حق تلفی ہے ۶؎تو یہ الله کے سپرد ہے اگر چاہے اسے سزا دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرما وے ۷؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللّٰهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ. يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ (إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهٖ ) وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللّٰهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتّٰى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللّٰهُ بِهٖ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللّٰهِ فَذَاك إِلَى اللّٰهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهٗ وَإِن شَاءَ تَجَاوَزَ عَنهُ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5133 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مظلوم کی بددعا سے بچو ۱∞؎وہ الله سے اپنا حق مانگتا ہے اور الله کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا ۲؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللّٰهَ تَعَالٰى حَقَّهٗ وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حَقٍّ حَقَّهٗ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5134 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے اوس بن شرحبیل سے ۱∞؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی ظالم کے ساتھ اسے قوت دینے کو چلے۲؎حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۳؎
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَشٰى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهٗ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَام»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5135 ، باب:ظلم کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ ظالم صرف اپنے ذات ہی کو نقصان دیتا ہے ۱∞؎تو جناب ابوہریرہ نے فرمایا ہاں الله کی قسم ۲؎حتی کہ بٹیریں اپنے گھونسلے میں دبلی ہوکر مرجاتی ہیں ظالم کے ظلم کی وجہ سے۳؎ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهٗ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَايَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهٗ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلٰى وَاللّٰهِ حَتَّى الحُبَارٰى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5136 ، باب:ظلم کا بیان