- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں کاٹا جاتا ۱∞؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5053 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے سردار سے فرمایا ۱∞؎کہ تجھ میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے بردباری اور وقار ۲؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:"إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: اَلْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5054 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱∞؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اطمینان اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بعض محدثین نےعبدالمھیمنابن عباس کے متعلق اس کے حافظہ کے بارے میں کچھ کلام کیا ہے ۳؎
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَنَاةُ مِنَ اللّٰهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّاوِي مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5055 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہیں ہے بردبار مگر لغزش والا ۱∞؎اور نہیں ہے حکمت والا مگر تجربہ کار ۲؎(احمد،ترمذی)اور کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو عَثْرَةٍ، وَلَا حَكِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرِبَةٍ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5056 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمایئے ۱∞؎تو فرمایا کام تدبیر سے اختیارکرو ۲؎پھر اگر اس کے انجام میں بھلائی دیکھو تو کر گزرو اور اگر گمراہمی کا خوف کرو تو باز رہو ۳؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهٖ خَيْرًا فَأَمْضِهٖ وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ .رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5057 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حصرت مصعب ابن سعد سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی اعمش ۲؎کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ۳؎فرمایا اطمینان سے کرنا ہر چیز میں اچھا ہے سواء آخرت کے کام کے ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أَعْلَمُهُ اِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍخَیْرٌ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5058 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سرجس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے اخلاق اور اطمینان اور میانہ روی ۱∞؎نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَ عِشْرِيْنَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5059 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا طریقہ اور اچھی عادت ۱∞؎اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5060 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب آدمی کوئی بات کرے پھر ادھر ادھر دیکھے تو وہ بات امانت ہے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5061 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ابوالہیثم ابن تیہان سے فرمایا ۱∞؎کہ کیا تمہارے پاس خدمت گارہے انہوں نے کہا نہیں تو فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی آویں تو آنا ۲؎چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخص لائے گئے تو ان کی خدمت میں ابوالہیثم آئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک چن لو عرض کیا یا نبی الله آپ ہی چن دیں۳؎فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس سے مشورہ لیا جاوے وہ امین ہے ۴؎تم اسے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۵؎اور اس کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو ۶؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّھِيَّانِ: هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟ قَالَ: لَا. فَقَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِخْتَرْ مِنْهُمَا . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ.خُذْ هٰذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهٗ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهٖ مَعْرُوفًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5062 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں ۱∞؎سواء تین مجلسوں کے حرام خون بہانے کی یا حرام شرم گاہ کی یا ناحق مال مارنے کی مجلسیں ۲؎(ابوداؤد)اور ابو سعید کی حدیثان اعظم الامانہ،الخمباشرۃکے باب کی پہلی فصل میں ذکر کردی گئی ۳؎
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " اَلْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ اَوْ اِقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ".رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ فِي بَابِ المُبَاشَرَةِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5063 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب الله نے عقل کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا کہ کھڑی ہو وہ کھڑی ہوئی ۲؎پھر اس سے فرمایا پھر وہ پھری پھر فرمایا آگے آ،آگئی پھر اس سے فرمایا بیٹھ جا وہ بیٹھ گئی ۲؎پھر اس سے فرمایا کہ میں نے ایسی مخلوق کو نہیں پیدا کیا ۳؎جو تجھ سے بہتر تجھ سے افضل تجھ سے اچھی ہو۴؎تیرے ذریعہ میں پکڑوں گا تیرے ذریعہ دوں گا ۵؎تیرے ہی ذریعہ میں پہچانا جاؤں گا ۶؎تیرے ذریعہ عتاب کروں گا تجھ سے ثواب ہے اور تجھ پر ہی عذاب ۷؎اس حدیث میں بعض علماء نے گفتگو کی ہے ۸؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الْعَقْلَ قَالَ لَهُ: قُمْ فَقَامَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَدْبِرْفَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَقْبِلْ فَأَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ لَهُ: اُقْعُدْ فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ لَہٗ: مَا خَلَقْتُ خَلْقًا هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَلَا أَفْضَلُ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنُ مِنْكَ بِكَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي وَبِكَ أُعْرَفُ وَبِكَ أُعَاتِبُ وَبِكَ الثَّوَابُ وَعَلَيْكَ العِقَابُ". وَقَدْ تَكَلَمَّ فِيهِ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5064 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک شخص نماز روزے زکوۃ حج وغیرہ والوں میں سے ہوتا ہے حتی کہ حضور نے نیکی کے سارے اقسام بیان فرمائے ۱∞؎مگر قیامت میں اپنی عقل کے مطابق ہی بدلہ دیا جاوے گا ۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ . حَتّٰى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا: وَمَا يُجْزٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5065 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ۱∞؎اور بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں ۲؎اور اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں ۳؎
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلْقِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5066 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے ۱∞؎اور لوگوں سے محبت کرنا آدھی عقل ہے ۲؎اور اچھا سوال آدھا علم ہے۳؎ان چاروں حدیثوں کوبیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ۴؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5067 ، باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان