باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ جناب علی کے پاس کچھ بد دین لائے گئے ۱؎آپ نے انہیں جلادیا ۲؎تویہ خبرحضرت ابن عباس کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اگر میں ہوتا۳؎تو انہیں نہ جلاتا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے منع فرمانے کی وجہ سے کہ فرمایا کسی کو اکا عذاب نہ دو ۴؎میں انہیں قتل کرتا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی وجہ سے کہ جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو ۵؎(بخاری)۶؎

عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَنادِقَةٍ،فَأَحْرَقَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللّٰهِ" وَلَقتلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3533 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی آگ سے عذاب نہ دے سواء اتعالٰی کے ۱؎(بخاری).

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِن النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3534 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آخر زمانہ میں قوم نکلے ۱؎گی نو عمر عقل کے ہلکے ۲؎کلام کریں گے مخلوق کے قول کے بہترین سے۳؎ان کا ایمان ان کے گلے سے نہ اترے گا۴؎دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۵؎تو تم انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کردو ۶؎کہ ان کے قتل میں قیامت کے دن ثواب ہے اسے جو انہیں قتل کرے ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ حُدَّاثُ الأَسْنَانِ،سُفَهَاءُ الأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قتلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3535 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے میری امت دو جماعتیں ہو جائے گی ۱؎تو ان دونوں سے ایک خارجی فرقہ نکل جائے گا ۲؎اس کے قتل کا اہتمام وہ فرقہ کرےگا جو حق سے قریب ہوگا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، فَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3536 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ۲؎کہ میرے بعد کافر ہو کر نہ لوٹ جانا ۳؎کہ تم سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں۔ (مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3537 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب دو مسلمان ملیں کہ ان میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھائے ۲؎تو وہ دونوں دوزخ کے کنارہ میں ہوتے ہیں۳؎پھر جب ان میں سے ایک اپنے صاحب کو قتل کردیتا ہے تو وہ دونوں دوزخ میں داخل ہوجاتے ہیں۴؎انہیں سے دوسری روایت میں ہے فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے مل پڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دوزخ میں جاتے ہیں ۵؎میں نے عرض کیا یہ تو قاتل ہے تو مقتول کا کیا ہے فرمایا وہ اپنے صاحب کے قتل پر حریص تھا ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ، فَهُمَا فِي جُرْفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا" وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: "إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" قُلْتُ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3538 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎مسلمان ہوگئے انہوں نے مدینہ کو ناموافق محسوس کیا ۲؎تو انہیں حضور نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں میں جائیں ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۳؎انہوں نے یوں ہی کیا تو تندرست ہوگئے پھر مرتد ہوگئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک لے گئے ۴؎پھر حضور نے ان کے پیچھے سپاہی بھیجے ۵؎وہ لوگ لائے گئے پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ۶؎پھر ان کو نہ داغا حتی کہ وہ مرگئے ۷؎اور ایک روایت میں ہے پھر ان کی آنکھیں اندھی کردی گئیں ۸؎اور ایک روایت میں ہے کہ سلائیوں کا حکم دیا وہ گرم کی گئیں پھر وہ ان کی آنکھوں میں پھیر دیں ۹؎اور انہیں حرہ میں ڈال دیا پانی مانگتے تھے تو نہ پلائے جاتے تھے حتی کہ مرگئے ۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَن أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَفَعَلُوا فَصَحُّوا، فَارْتَدُّوا، وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا، وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَمَّرُوا أَعْيُنَهُمْ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَهُمْ بِهَا، وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3539 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ہم کو صدقہ کی رغبت دیتے تھے اور ہم کو مثلہ سے منع فرماتے تھے ۱؎(ابوداؤد)

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3540 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

اور نسائی نے حضرت انس سے روایت کی۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَنَسٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3541 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عبداسے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضور قضا حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۲؎ہم نے ایک لالی دیکھی جس کے ساتھ دو چوزے تھے ہم نے اس کے چوزے پکڑ لیے ۳؎کہ لالی آئی تو وہ بچھی جانے لگی ۴؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا اسے کس نے غمگین کیا اس کے بچوں کی وجہ سے اس کے بچے اسے لوٹا دو ۵؎اور ایک چیونٹیوں کا جنگل دیکھا جسے ہم نے جلادیا تھا ۶؎فرمایا یہ کس نے جلایا ہم نے عرض کیا ہم نے فرمایا یہ لائق نہیں کہ آگ کے رب کے سواء کوئی اور آگ سے عذاب دے ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ بِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ، فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ، فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ فَجَّعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا" وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: "مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ " فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: "إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا ربُّ النَّار". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3542 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے اور انس ابن مالک سے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میری امت میں بڑا اختلاف وافتراق (جدائی) ہوگا ۱؎ایک قوم ہوگی جو کلام اچھا کرے گی اور کام برے کرے گی ۲؎وہ لوگ قرآن پڑھیں گے ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۳؎دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے واپس نہ ہوں گے ۴؎حتی کہ تیر اپنے چلہ پر لوٹ آئے ۵؎وہ تمام انسانوں اور تمام مخلوق میں بدتر ہیں ۶؎خوشخبری ہے اسے جو ان لوگوں کو قتل کرے اور اسے جن کو وہ لوگ قتل کریں ۷؎کتاب اکی طرف دعوت دیں گے ۸؎وہ کسی بات میں ہمارے نہیں ۹؎اور جو انہیں قتل کرے وہ بقیہ لوگوں میں سے زیادہ قریب الی اہوگا ۱۰؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اان کی نشانی کیا ہے فرمایا سر منڈانا ۱۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَيَكُونُ فِي أُمَّتى اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحسِنونَ القِيلَ ويُسيئونَ الفِعلَ، يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُروقَ السَّهمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قتلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللّٰهِ، وَلَيْسُوا منَّا فِي شَيءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللّٰهِ مِنْهُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: "التَّحْلِيقُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3543 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کسی اس مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اکے سوا کوئی معبود نہیں اور حضور محمد مصطفے اکے رسول ہیں ۱؎مگر تین جرموں میں سے ایک کی وجہ سے نکاح کے بعد زنا کہ وہ سنگسار کیا جائے گا ۲؎اور وہ شخص جو ارسول سے جنگ کرنے نکلا۳؎وہ یا قتل کیا جائے گا یا سولی دیا جائے گا یا زمین سے نکال دیا جائے گا۴؎یا کسی جان کو قتل کردے تو اس کے عوض قتل کیا جائے ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ! إِلَّا بإِحْدَى ثَلَاثٍ: زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ فإِنَّهُ يُرجَمُ، وَرَجُلٌ خرَجَ مُحارِبًا للَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الأَرْضِ، أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3544 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابن ابی لیلی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خبر دی ۲؎کہ وہ حضرات رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہے تھے ۳؎ان میں سے ایک صاحب سو گئے تو ان میں سے بعض صحابی اپنی رسی کی طرف چلے اسے پکڑ لیا جس سے وہ گھبرا گئے ۴؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسیرُونَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إلَى حَبْلٍ مَعَه، فَأَخَذَهُ، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3545 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابی درداء سے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو کوئی زمین مع اس کے جزیہ کے لے لے ۱؎تو اس نے اپنی ہجرت ختم کردی ۲؎اور جس نے کسی کافر کی ذلت کو اس کی گردن سے نکال کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ، وَمَنْ نزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلّى الإِسْلَامَ ظَهْرَهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3546 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت جریر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا ۱؎تو ان کے بعض نے سجدہ کے ذریعہ بچنا چاہا ۲؎ان حضرات نے ان میں قتل تیز کردیا ۳؎یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ۴؎تو حضور نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم دیا ۵؎اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بیزار ہوں جو کفار میں رہے سہے ۶؎لوگوں نے عرض کیا یا رسول اکیوں ؟ ۷؎فرمایا چاہیے ان دونوں کی آگیں نہ دکھائی دیں ۸؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ، فَاعْتَصَمَ ناسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ: "أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! لِمَ؟ قَالَ: "لَا تَتَرَاءَى نارَاهُمَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3547 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ایمان شب خونی سے آڑ ہے مؤمن اچانک نہیں مارتا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤمنٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3548 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت جریر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب غلام بھاگ جائے دارالحرب کی طرف تو اس کا خون حلال ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فَقَدْ حلَّ دَمُهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3549 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی بدگوئی میں مشغول رہتی تھی ۱؎تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مرگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا خون باطل فرمادیا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا رَوَاهُ ابوداود .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3550 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جادو گر کی سزا تلوار سے مار دینا ہے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبُهُ بِالسَّيْفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3551 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص سلطان اسلام پر خروج کرے اور میری امت میں پھوٹ ڈالے تو اس کی گردن مار دو ۱؎(نسائی)

عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي فَاضْربُوا عُنُقَهُ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3552 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب