- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- قصاص کابیان
- باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب
باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب
قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت شریک ابن شہاب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں آرزو کرتا تھا کہ کسی صحابی رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کروں اور ان سے خارجیوں کے متعلق پوچھوں ۲؎میں عید کے دن ابوبرزہ سے ان کے ساتھیوں کی جماعت میں ملا ۳؎میں نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو خارجیوں کے متعلق کچھ ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے ۴؎فرمایا ہاں میں نے حضور کو اپنے کانوں سے فرماتے اور اپنی آنکھوں سے حضور کو دیکھا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ مال لایا گیا ۵؎آپ نے وہ مال تقسیم فرمایا تو اپنے داہنے بائیں والوں کو دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہ دیا ۶؎تو آپ کے پیچھے سے ایک شخص کھڑا ہوا بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)آپ نے تقسیم میں انصاف نہ کیا ۷؎یہ کالا شخص تھا منڈے ہوئے بال اس پر دو سفید کپڑے تھے ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سخت ناراض ہوئے ۹؎اور فرمایا کہ تم لوگ میرے سوا مجھ سے زیادہ عادل شخص کوئی نہ پاؤ گے ۱۰؎پھر فرمایا آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی شاید یہ بھی ان میں سے ہے ۱۱؎جو قرآن بہت پڑھیں گے جو ان کے گلے سے نہ اترے گا اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۱۲؎ان کی علامت سر منڈانا ہے ۱۳؎یہ نکلتے ہی رہیں گے ۱۴؎حتی کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجّال کے ساتھ نکلے گا ۱۵؎تو جب تم ان سے ملو تو جان لو کہ یہ بدترین مخلوق ہیں ۱۶؎(نسائی)
وَعَنْ شَريكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنيَّ وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنَيَّ: أُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَمَهُ، فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ، وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ، رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي، ثُمَّ قَالَ: يخرُجُ فِي آخرِ الزَّمانِ قَوْمٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُم، يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ، حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3553 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب
روایت ہے حضرت ابو غالب سے ۱؎کہ حضرت ابو امامہ نے ۲؎کچھ سر دمشق کے راستہ پر لٹکے دیکھے ۳؎تو ابو امامہ نے فرمایا کہ دوزخ کے کتے ہیں ۴؎آسمان کی وسعت کے نیچے بدتر مقتولین ہیں بہترین مقتول وہ ہیں جس کو یہ قتل کریں ۵؎پھر پڑھا کچھ منہ اس دن سفید ہوں گے اور کچھ منہ سیاہ،پوری آیت ۶؎ابوامامہ سے پوچھا گیا آپ نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے فرمایا اگر میں نے حضور کو ایک بار یا دو بار تین بار حتی کہ سات بار گِنا فرماتے نہ سنا ہوتا تو میں تم سے روایت نہ کرتا ۷؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُؤُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرجَ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: "كِلَابُ النَّارِ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيم السَّمَاءِ،خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ" ثُمَّ قَرَأَ: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ الآية قِيلَ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3554 ، باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب
- 1
- 2