باب:خلع اور طلاق کا بیان

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت ثابت ابن قیس کی بیوی ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ابن قیس کی عادت میں دین میں اعتراض نہیں کرتی ۲؎مگر میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں ۳؎رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ لوٹا دو گی ۴؎وہ بولیں ہاں ۵؎تو رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باغ قبول کرلو اور انہیں ایک طلاق دے دو ۶؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3274 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو بحالت حیض طلاق دیدی ۱؎تو حضرت عمر نے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تب رسول اصلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں بہت ناراض ہوئے ۲؎پھر فرمایا وہ رجوع کرلیں پھر اسے روکیں ۳؎حتی کہ پاک ہوجائے پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے ۴؎پھر اگر ان کی رائے اسے طلاق دینے کی ہو تو پاکی کی حالت میں انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دیں ۵؎پس یہ ہی وہ عدت ہے کہ انے حکم دیا کہ عورتوں کو اس لحاظ سے طلاق دی جائے ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انہیں حکم دو وہ رجوع کرلیں،پھر انہیں پاکی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: "لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ،فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".وَفِي رِوَايَةٍ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3275 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم کو رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تو ہم نے رسول اکو اختیار کرلیا تو اسے ہم پر کچھ بھی شمار نہ کیا گیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3276 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے آپ نے حرام کے بارے میں فرمایا کہ کفارہ دے ۱؎بے شک تمہارے لیے رسول امیں اچھی پیروی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفِّرُ، لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّه أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3277 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے ۱؎تو میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا ۲؎کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہہ دیں کہ میں آپ سے مغافیر کی بوپاتی ہوں ۳؎کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ۴؎چنانچہ ان دونوں بیویوں میں سے ایک کے پاس حضور تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا ۵؎تو فرمایا کوئی مضائقہ نہیں۶؎ہم نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اب نہ پئیں گے اور ہم نے اس کی قسم کھائی ۷؎اس کی خبر کسی کو نہ دینا۸؎آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے تھے ۹؎تب یہ آیت اتری اے نبی آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو انے آپ کے لیے حلال کی اپنی بیویوں کی مرضی تلاش کرتے ہو ۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: "لَا بَأْسَ، شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ،فَلَنْ أَعُودَ لَهُ، وَقَدْ حَلَفْتُ؛ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا" يَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِهِ فَنَزَلَتْ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ الآيَة .مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3278 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے ۱؎تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۲؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3279 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپسندیدہ ترین حلال اکے نزدیک طلاق ہے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3280 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۱؎اور نہیں ہے آزاد کرنا مگر ملکیت کے بعد۲؎اور نہیں ہے وصال روزوں میں ۳؎اور نہیں ہے یتیمی بلوغ کے بعد۴؎اور نہیں ہے شیرخوارگی دودھ چھوٹنےکے بعد ۵؎اور نہیں ہے خاموشی دن بھر کی رات تک ۶؎(شرح سنہ)

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ، وَلَا وِصَالَ فِي صِيَامٍ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ،وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3281 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی منت اس میں نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۱؎اور نہ اس میں آزاد کرنا ہے،جس کا وہ مالک نہ ہو اور نہیں ہے طلاق اس میں جس کا وہ مالک نہ ہو ۲؎(ترمذی)ابوداؤد نے یہ زیادتی کی کہ نہ فروخت ہے مگر اس میں جس کا مالک ہو۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: "وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا يَمْلِكُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3282 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت رکانہ ابن عبدیزید سے ۱؎کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق دی۲؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور بولے اکی قسم میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی تو رسول انے فرمایا کیا خدا کی قسم تم نے نہ نیت کی مگر ایک کی تو رکانہ بولے اکی قسم میں نے نہ نیت کی مگر ایک کی ۳؎تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عورت رکانہ کی طرف لوٹا دی ۴؎پھر انہوں نے زمانہ فاروقی میں دوسری طلاق دی اور زمانہ عثمانی میں تیسری ۵؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)مگر انہوں نے دوسری تیسری طلاق کا ذکر نہ کیا ۶؎

وَعَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "وَاللّٰهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟ " فَقَالَ رُكَانَةُ: واللّٰهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَة.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3283 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں وہ ہیں جن کا ارادہ بھی ارادہ ہے اور مذاق بھی ارادہ ۱؎نکاح اور طلاق،اور رجوع ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اور فرمایا ترمذی نے یہ حدیث حسن غریب ہے ۳؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3284 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے طلاق نہ آزادی مجبوری میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)کہا گیا ہے کہ اغلاق کے معنی جبر ہیں ۲؎

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، قيل: مَعْنَى الإغْلَاقِ: الإِكْرَاهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3285 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے دیوانہ اور مغلوب العقل کی طلاق کے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور عطاء ابن عجلان راوی ضعیف حدیث بھول جانے والے ہیں ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ وَالْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَطَاءُ ابْنُ عَجْلانَ الرَّاوِي ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الحَدِيثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3286 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے قلم اٹھالیا گیا ہے تین شخصوں سے ۱؎سوتا ہوا حتی کہ جاگ جائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہوجائے اور دیوانہ سے یہاں تک کہ عقل والا ہوجائے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3287 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

دارمی،حضرت عائشہ سے اور ابن ماجہ ان دونوں سے۔

وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْهُمَا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3288 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لونڈی کی طلاقیں دو ہیں اور اسکی عدت دو حیض ۱؎(ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ دارمی)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "طَلَاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3289 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کو نکاح سے نکالنے والیاں ۱؎اور خلع کرنے والیاں منافقہ ہیں ۲؎(نسائی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3290 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت نافع سے وہ صفیہ بنت ابوعبید کی مولاۃ سے راوی ۱؎کہ انہوں نے اپنی ہر چیز کے عوض اپنے خاوند سے خلع کیا ۲؎تو حضرت عبداابن عمر نے اس کا انکار نہ فرمایا ۳؎(مالک)

وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ: أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3291 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے محمود ابن لبید سے ۱؎فرماتے ہیں رسول اکو اس شخص کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی عورت کو ایک دم تین طلاقیں دے دیں ۲؎تو آپ غصہ میں کھڑے ہوگئے۔۳؎پھر فرمایا کیا وہ اعزوجل کی کتاب سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان ہوں ۴؎حتی کہ ایک شخص اٹھا پھر بولا یا رسول اکیا میں اسے قتل نہ کردوں ۵؎(نسائی)

وَعَن مَحْمُودِ بْنِ لَبيِدٍ قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانَ، ثُمَّ قَالَ: "أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللّٰهِ عزَّ وجلَّ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ " حَتَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلَا أَقْتُلُهُ؟ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3292 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی ہے کہ کسی شخص نے حضرت عبداابن عباس سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں آپ مجھ پر کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں سے تجھ سے مطلقہ ہوچکی اور ستانویں طلاقوں کے ذریعہ تو نے اکی آیتوں کا مذاق اڑا لیا ۱؎(مؤطا)

وَعَن مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِئَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: طُلِّقَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللّٰهِ هُزُوًا. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3293 ، باب:خلع اور طلاق کا بیان