- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- آزادی کا بیان
- باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردے تو اگر اس کے پاس مال ہوجو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے ۱؎تو اس پر غلام کی قیمت لگائی جائے انصاف کی پھر بقیہ شریکوں کو ان کے حصے دے دیئے جائیں اور غلام اس پر ہی آزادہوگا ۲؎وگرنہ اس غلام میں سے جتنا ہوگیا وہ ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3388 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے غلام میں ایک حصہ آزاد کیا تو وہ پورا آزاد ہوگیا اگر اس کے پاس مال ہواور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے بغیر اس پر مشقت ڈالے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3389 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا ۱؎اس کے پاس سوائے ان کے اور کوئی مال نہ تھا۲؎تو انہیں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے بلایا تو ان کے تین حصے کیے پھر ان میں قرعہ ڈالا۳؎چنانچہ دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا ۴؎اور میت کے لیے بہت سخت الفاظ فرمائے ۵؎اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا اگر ہم دفن کیے جانے سے پہلے ہوتے تو وہ مسلمان کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۶؎
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَدَعَا بهم رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" بَدَلَ: "وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا"، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: وَقَالَ: "لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3390 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدلہ نہیں دے سکتا مگر اس طرح کہ اسے غلام پائے تو اسے خرید لےتاکہ آزاد کردے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَريَهُ فَيُعْتِقَهُ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3391 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا غلام مدبر کیا ۱؎اور اس کے پاس اس کے سوا اور مال نہ تھا ۲؎یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا مجھ سے اسے کون خریدتا ہے۳؎چنانچہ اسے نعیم ابن نحام نے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا ۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اسے نعیم ابن عبداﷲعدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض خریدا ۵؎وہ یہ درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے آپ نے وہ درہم اسے دیئے ۶؎پھر فرمایا کہ اپنے نفس سے شروع کروکہ اس پر خرچ کرو ۷؎پھر اگر کچھ بچ رہے تو اپنے گھر والوں کو دو پھر اگر گھر والوں سے کچھ بچ رہے تو اپنے قرابت والوں کو دو۸؎پھر اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی کچھ بچ رہے تو یوں دو اور یوں دو، حضور انور اپنے آگے دائیں بائیں اشارہ فرماتے جاتے تھے ۹؎
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِئَةِ دِرْهَمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانَ مِئَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "ابْدَأْ بِنَفْسِكَ، فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا" فَيَقُولُ: فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3392 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت خواجہ حسن بصری سےوہ حضرت سمرہ سے وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو اپنے ذی رحم محرم کا مالک ہوجائے ۱؎تو وہ آزاد ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3393 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کسی کی لونڈی اس سے بچہ جن دے تو وہ اس کے پیچھے یا اس کے مرے بعد آزاد ہے ۱؎(دارمی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3394 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر صدیق کے زمانہ میں ام ولد لونڈی کو فروخت کیا ۱؎پھر جب زمانہ فاروقی ہوا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کردیا پس ہم باز رہے ۲؎(ابوداؤد)۳؎
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3395 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنا غلام آزاد کرےجس کے پاس مال ہو ۱؎تو وہ مال اس کا ہے مگر یہ کہ مولیٰ شرط لگائے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3396 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ابوالملیح ۱؎سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک شخص نے ایک غلام کا حصہ آزاد کردیا ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں یہ عرض کیا گیا تو فرمایا کہ اﷲکا کوئی شریک نہیں ۳؎پھر اس کی آزادی کو جائز رکھا ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ" فَأَجَازَ عِتْقَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3397 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کا غلام تھا وہ بولیں کہ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر یہ شرط لگاتی ہوں کہ جب تک جیو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کرو۲؎میں نے کہا کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی لگائیں تو بھی میں زندگی بھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو نہ چھوڑتا ۳؎چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی ۴؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3398 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ مکاتب غلام ہے جب تک کہ اس کی بدل کتابت سے ایک درہم بھی باقی رہے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتبَتِهِ دِرْهَمٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3399 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسو ل اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے کسی کے مکاتب کے پاس جب پورا کرنے کا مال ہوتو وہ اس سے پردہ کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ وَفَاءٌ فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3400 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے عمرو ابن شعیب سے،وہ اپنے والد سے،وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام کو سو اوقیہ چاندی پر مکاتب کیا ۱؎تو اس نے سب ادا کردیا،سوائے دس اوقیہ کے یا فرمایا سوائے دس دیناروں کے ۲؎پھر وہ عاجز ہوگیا تو وہ غلام ہی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِئَةِ أُوقِيَّةٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ أَوَاقٍ -أَوْ قَالَ: عَشْرَةَ دَنَانِيرَ- ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3401 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب مکاتب سزا یا وراثت کو پہنچےتو اس حساب سے وارث کیا جائے گا جتنا آزاد ہوچکا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دیت دیا جائے گا مکاتب ادا کیے ہوئے حصہ کی آزاد کی دیت اور باقی کی غلام کی دیت اور اسے ضعیف کہا ۳؎
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: "يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حُرٍّ وَمَا بَقِي دِيَة عَبْدٍ". وَضَعَّفَهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3402 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابو عمر انصاری سے ۱؎کہ ان کی ماں نے آزاد کرنا چاہا پھر صبح تک دیر لگائی وہ فوت ہو گئیں۲؎عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے قاسم ابن محمد سے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو کیا انہیں نفع دے گا۳؎تو قاسم بولے کہ سعد ابن عبادہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئےعرض کیا کہ میری ماں وفات پاچکیں کیا انہیں نفع دے گا یہ کہ میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۴؎(مالک)
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ: أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ، فَأَخَّرَتْ ذَلِكَ إِلَى أَنْ تُصْبِحَ، فَمَاتَتْ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ ابْنِ مُحَمَّدٍ: أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ الْقَاسِمُ: أَتَى سَعْدُ ابْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي هَلَكَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نَعَمْ". رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3403 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن ابن ابوبکر سوتے میں وفات پاگئے ۲؎ان کی بہن عائشہ صدیقہ نے انکی طرف سے بہت غلام آزاد کیے۳؎(مالک)
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ،فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ أُخْتُهُ رِقَابًا كَثِيرَةً. رَوَاهُ مَالِكٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3404 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو غلام خریدے اس کے مال کی شرط نہ لگائے تو اسے کچھ نہ ملے گا ۱؎(دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنِ اشْتَرَى عَبْدًا فَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ فَلَا شَيْءَ لَهُ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3405 ، باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎