باب : پچھلے باب کا تتمہ

تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس پر خوشبو تحفتہً پیش کیا جائے ۱؎وہ اسے واپس نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا ہے خوشبو اچھی ہے ۲؎(مسلم)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهٗ فَإِنَّهٗ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرِّيحِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3016 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم خوشبو واپس نہ کرتے تھے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيْبَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3017 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے ۱؎اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۲؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3018 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎کہ ان کے والد انہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم خدمت میں لائے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح دیا ہے ۲؎عرض کیا نہیں فرمایا تو اسے لوٹا لو۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ وہ ساری اولاد تمہاری خدمت میں برابر ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو نہیں۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں مجھے میرے باپ نے کچھ عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ بولیں ۵؎میں تو راضی نہیں حتی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو گواہ کر لو ۶؎تو وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر آئے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ سے ہے ۷؎ایک عطیہ دیا ہے وہ کہتی ہیں میں یارسولاللّٰهآپ کو گواہ بنالوں فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو اسی طرح دیا ہے عرض کیا نہیں فرمایااللّٰهسے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۸؎فرماتے ہیں میرے والد لوٹ گئے پھر اپنا عطیہ واپس کرلیا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا ۹؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتٰى بِهٖ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هٰذَا غُلَامًا فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهٗ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَرْجِعْهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلٰى قَالَ: «فَلَاإِذَنْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتّٰى تُشْهِدَرَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلِدِكَ مِثْلَ هٰذَا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ» . قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهٗ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَالَ: «لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3019 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی شخص اپنا دیا ہوا ہبہ واپس نہ لے سوائے باپ کے اپنے بیٹے سے ۱؎(نسائی،ابن ماجہ)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرْجِعُ أَحَدٌ فِي هِبَتِهٖ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهٖ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3020 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے و ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کسی شخص کو یہ جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے ۱؎سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے ۲؎اور اس کی مثال جو عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کتے کی سی ہے جوکھاتا رہے حتی کہ سیر ہوجائے تو قے کردے پھر اپنی قے دوبارہ کھائے ۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)اسے ترمذی نے صحیح کہا ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهٗ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتّٰى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهٖ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3021 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک بدوی نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو جوان اونٹنی ہدیۃً پیش کی ۱؎تو حضور نے اس کے عوض چھ اونٹنیاں عطا فرمائیں پھر بھی وہ ناراض ہی رہا۲؎یہ خبر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نےاللّٰهکی حمدوثناء کی ۳؎پھرفرمایا کہ فلاں شخص نے ہم کو ایک اونٹنی دی تھی ہم نے اسے اس کے بدلے چھ اونٹنیاں دیں پھر بھی وہ ناراض ہی رہا میں نے تو ارادہ کرلیا ہے کہ اب سواء قریش یا انصاری یا ثقفی یا دوسی کا ہدیہ قبول نہ کروں ۴؎(ترمذی،ابواؤد،نسائی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً فَعَوَّضَهٗ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ فَلَانًا أَهْدٰى إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهٗ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3022 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جسے کوئی عطیہ دیا جائے اگر ہوسکے تو اس کا بدلہ دے دے اور جو کچھ نہ پائے وہ اس کی تعریف کردے ۱؎کہ جس نے تعریف کردی اس نے شکریہ ادا کیا جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی ۲؎اور جو ایسی چیز سے ٹیپ ٹاپ کرے جو اسے نہ دی گئی وہ فریب کے کپڑے بننے والے کی طرح ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيُجْزِ بِهٖ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ فَإِنَّ مَنْ أَثْنٰى فَقَدْ شَكَرَ وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ وَمَنْ تَحَلّٰى بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُوْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3023 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے وہ بھلائی کرنے والے سے کہہ دےاللّٰهتجھے جزا ئے خیر دے تو اس نے تعریف حد تک پہنچادی ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهٖ : جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3024 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو لوگوں کا شکریہ ادا نہ کرے وہاللّٰهکا شکریہ بھی ادا نہ کرے گا ۱؎(احمد،ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللّٰهَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3025 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں جب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور کی خدمت میں مہاجرین حاضر ہو کربولے ۱؎یار سولاللّٰهہم جن لوگوں کے مہمان بنے ہیں ان سے بڑھ کر زیادہ مال خرچ کرنے والا اور تھوڑے مال سے مدد کرنے والا کوئی نہ دیکھا۲؎ہماری طرف سے محنت مشقت تو خود کرتے ہیں اور آمدنی میں ہمیں شریک کرلیتے ہیں ۳؎حتی کہ ہم کو خوف ہے کہ سارا ثواب وہ ہی لے جائیں گے ۴؎حضور نے فرمایا نہیں جب تک تم ان کے لیےاللّٰهسے دعائیں کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو ۵؎(ترمذی)ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ : لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ حَتّٰى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالأَجْرِ كُلِّهٖ فَقَالَ: «لَا مَا دَعَوْتُمُ اللّٰهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3026 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ہدیہ کا لین دین کرو ہدیہ عداوتوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَهَادُوا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ الضَّغَائِنَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3027 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا آپس میں ہدیے لو دو کہ ہدیہ سینہ کا کینہ دور کرتا ہے ۱؎کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ جانے اگر چہ بکری کی کھری کا ٹکڑا ہی ہو ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3028 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تین چیزیں واپس نہ کی جائیں:تکیے،تیل اور دودھ ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے،کہا گیا ہے تیل سے مراد خوشبو ہے ۲؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قِيلَ: أَرَادَ بِالدُّهْنِ الطِّيبَ .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3029 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابو عثمان مہدی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو اسے رد نہ کرے کہ خوشبو جنت سے آئی ہے ۲؎(ترمذی، ارسالًا)

وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدَيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: « إِذَا أُعْطِيَ أَحَدُكُمْ الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدُّهٗ فَإِنَّهٗ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3030 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ بشیر کی بیوی نے کہا کہ میرے بیٹے کو اپنا غلام دو ۱؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو ۲؎چنانچہ وہ رسول االلّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ فلاں کی لڑکی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے لڑکے کو اپنا غلام دے دوں اور کہا ہے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو۳؎ارشاد ہوا کہ اس کے اور بھی بھائی ہیں بولے ہاں فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس جیسا ہی عطیہ کیا ہے جو اسے دے رہے ہوعرض کیا نہیں فرمایا یہ درست نہیں ۴؎اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں ۵؎(مسلم)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتٰى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَهٗ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هٰذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلٰى حَقٍّ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3031 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ کے پاس نیا پھل لایا جاتا تو اسے آپ اپنی آنکھوں اور لبوں پر رکھتے ۱؎اور عرض کرتے الٰہی جیسے تو نے ہم کو اس کی ابتداء دکھائی ہم کو اس کی انتہاء بھی دکھا ۲؎پھر وہ پھل کسی اس بچے کو عطا فرمادیتے جو آپ کے پاس ہوتا ۳؎(بیہقی دعوات کبیر)۴؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلٰى عَيْنَيْهِ وَعَلٰى شَفَتَيْهِ وَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهٗ فَأَرِنَا آخِرَهُ» ثُمَّ يُعْطِيهَا مَنْ يَكُونُ عِنْدَهٗ مِنَ الصِّبْيَانِ.رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3032 ، باب : پچھلے باب کا تتمہ