- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
تجارتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایاجو کسی ایسی زمین کو آباد کرے ۱؎جو کسی کی ملک نہ ہو تو وہ ہی اس کا حقدار ہے،عروہ فرماتے ہیں کہ جناب عمر نے اپنی خلافت میں اسی پر فیصلہ کیا ۲؎(بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ . قَالَ عُرْوَةُ: قَضٰى بِهٖ عُمَرُ فِي خِلَافَتِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2991 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے فرمایا ۱؎کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ چراگاہیںاللّٰهاور رسول ہی کی ہیں ۲؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا حِمٰى إِلَّا لِلّٰهِ وَرَسُولِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2992 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے ایک انصاری شخص سے حرہ کی نال کے متعلق جھگڑا کیا۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے زبیر تم پانی دے لو پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۳؎انصاری نے کہا کہ وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے ۴؎اس پر حضور کے چہرے کا رنگ بدل گیا۵؎پھر فرمایا اے زبیر پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۶؎یعنی اب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے زبیر کو اپنا پورا حق لینے کا صریح حکم دیا جب کہ انصاری نے آپ کو ناراض کردیا حالانکہ حضور نے ان دونوں کو وہ مشورہ دیا تھا جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلٰى جَارِكَ» . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهٗ ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتّٰى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلٰى جَارِكَ» فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهٗ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2993 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بچا ہوا پانی نہ روکو تاکہ اس سے بچی گھاس روکو ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهٖ فَضْلَ الْكلِأ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2994 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تین شخص وہ ہیں جن سے قیامت کے دناللّٰهنہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں نظر رحمت سے دیکھے ۱؎ایک وہ شخص جو کسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زیادہ قیمت ملتی رہی حالانکہ ہو وہ جھوٹا ۲؎اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس قسم سے مسلمان آدمی کا مال مارے ۳؎اور ایک وہ شخص جو بچا ہوا پانی روکے۴؎اللّٰهتعالٰی فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جیسے تو نے بچا ہوا پانی روکا تھا جسے تیرے ہاتھوں نے نہ بنایا تھا ۵؎(مسلم،بخاری) اور حضرت جابر کی حدیث ممنوع تجارتوں کے باب میں ذکر کردی گئی ہے۔
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلٰى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلٰى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللّٰهُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاءٍ لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي "بَابِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2995 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا جو کسی زمین پر احاطہ بنائے تو وہ زمین اسی کی ہوگی ۱؎(ابوداؤد)
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى الأَرْضِ فَهُوَ لَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2996 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو کھجور کے درخت بطور جاگیر بخشے ۱؎(ابو داؤد)
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ نَخِيلًارَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2997 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت زبیر کو ان کے گھوڑے کی حد دوڑ تک جاگیر بخشی ۱؎زبیر نے اپنا گھوڑا چھوڑا حتی کہ ٹھہر گیا پھر اپنا کوڑا پھینکا حضور نے فرمایا جہاں کوڑا پہنچا وہاں تک کی زمین انہیں دے دو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ حُضْرَ فَرَسِهٖ فَأَجْرٰى فَرَسَهَ حَتّٰى قَامَ ثُمَّ رَمٰى بِسَوْطِهٖ فَقَالَ: أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2998 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں حضر موت میں کچھ زمین جاگیر بخشی فرماتے ہیں میرے ساتھ حضرت معاویہ کو بھیجا فرمایا وہ زمین انہیں دے آؤ ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهٗ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: «أَعْطِهَا إِيَّاه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2999 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت ابیض ابن حمال ماربی سے ۱؎کہ وہ بطور نمائندہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور سے مارب کے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ۲؎حضور نے انہیں وہ جاگیر عطا فرمادی جب وہ چلے گئے تو کسی شخص نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں پانی کا چشمہ جاگیر دے دیا ۳؎فرماتے ہیں تب حضور نے وہ ان سے واپس لے لیا ۴؎راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور سے پوچھا کہ کس قدر پیلو چراگاہ بنائے جاسکتے ہیں فرمایا جہاں تک اونٹوں کے سم نہ پہنچیں ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَن أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالِ الْمَأْرِبِيِّ: أَنَّهٗ وَفَدَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعُهٗ إِيَّاهُ فَلَمَّا وَلّٰى قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّمَا أَقْطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ: فَرَجَّعَهٗ مِنْهُ قَالَ: وَسَأَلَهٗ مَاذَا يُحْمٰى مِنَ الأَرَاكِ؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3000 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی، گھاس اور آگ میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3001 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت اسمر ابن مضرس سے فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے حضور سے بیعت کی آپ نے فرمایا جو ایسے پانی پر قبضہ کرے جس تک کسی مسلمان کا قبضہ نہ پہنچا ہو تو وہ اسی کا ہے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرَّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهٗ فَقَالَ: مَنْ سَبَقَ إِلٰى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهٗ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3002 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت طاؤس سے ۱؎ارسالًا کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو بنجر غیر آباد زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۲؎اور پرانی غیرمملوکہ زمینیںاللّٰهاور رسول کی ہیں ۳؎پھر میری طرف سے وہ تمہاری ہیں ۴؎(شافعی)
وَعَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحْيٰیمَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ لَهٗ وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلّٰهِ وَرَسُولِهٖ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3003 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
اور شرح سنہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت عبداللّٰهابن مسعود کو مدینہ منورہ میں مکانات بطور جاگیر بخششیں فرمائے جو انصارکی آبادی مکانات اور باغ کے درمیان تھے ۱؎تو عبداللّٰهابن زہرہ کے خاندان نے کہا ۲؎حضور ہم سے ام عبد کے بیٹے کو دور فرمائیں ۳؎انہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ پھر مجھےاللّٰهتعالٰی نے بھیجا کیوں ہے ۴؎اللّٰهاس جماعت کو پاک نہیں فرماتا جس میں کمزور کا حق نہ لیا جائے ۵؎
وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ الدُّورَ بِالمَدِينَةِ وَهِيَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ عِمَارَةِ الْأَنْصَارِ مِنَ الْمَنَازِلِ وَالنَّخْلِ فَقَالَ بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ: نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ: «فَلِمَ انْبَعَثَنِي اللّٰهُ إِذًا؟ إِنَّ اللّٰهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهٗ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3004 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مہزور کے پانی کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ۱؎کہ یہاں تک پانی آنے دیا جائے کہ ٹخنوں کو پہنچ جائے پھر اوپر والا نیچے پر چھوڑ دے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضٰى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتّٰى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلَ الْأَعْلَى عَلَى الأَسْفَلِ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3005 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کا ایک کھجور کا دستہ تھا ۱؎مالک باغ کے ساتھ اس کے گھر والے بھی تھے جب حضرت سمرہ باغ میں جاتے تو مالک کو تکلیف ہوتی ۲؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سمرہ سے مطالبہ فرمایا کہ سمرہ وہ بیچ دیں۳؎انہوں نے انکار کیا تو فرمایا تبادلہ کرلیں وہ انکاری ہوئے فرمایا اسے ہبہ کردو تو تمہیں ایسا ثواب ہوگا اس کی انہیں رغبت دی مگر انہوں نے انکار کیا ۴؎تب فرمایا درپے ایذا ہو انصاری کو حکم دیا جاؤ ان کا درخت کاٹ دو ۵؎(ابوداؤد)حضرت جابر کی حدیث کہ جو زمین آباد کرے باب غصب میں سعید ابن زید کی روایت سے ذکر کردی گئی اور ابو صرمہ کی حدیث کہ جو نقصان دےاللّٰهاسے نقصان دے گا اس باب میں ذکر ہوگی کہ تعلق ممنوع ہے ۶؎
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهٗ كَانَتْ لَهٗ عَضَدٌ مِنْ نَخْلٍ فِيحَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهٗ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَتَأَذّٰى بِهٖ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهٗ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ليَبِيْعَهُ فَأَبٰى، فَطَلَبَ أَنْ يُنَاقِلَهٗ فَأَبٰى قَالَ: «فَهَبْهُ لَهٗ وَلَكَ كَذَا» أَمْرًا رَغْبَةً فِيهِ فَأَبٰى فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌّ» فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ فَاقْطَعْ نَخْلَهٗ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: "مَنْ أَحْيٰی أَرْضًا" فِي "بَابِ الْغَصْبِ" بِرِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي صِرْمَةَ: «مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللّٰهُ بِهٖ » فِي « بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ التَّهَاجُرِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3006 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسولاللّٰهکون سی چیز ہے جس کا منع کرنا حلال نہیں ۱؎فرمایا پانی نمک اور آگ ۲؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهپانی کو تو ہم سمجھ گئے مگر نمک اور آگ کا یہ حکم کیوں ہے ۳؎فرمایا اے حمیراء۴؎جس نے کسی کو آگ دی اس نے گویا اس آگ سے پکا ہوا سارا کھانا خیرات کیا اور جس نے کسی کو نمک دیا اس نے گویا سارا وہ کھانا خیرات کیا جسے اس نمک نے لذیذ بنایا۵؎اور جس نے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی وہاں پلایا جہاں پانی عام ملتا ہو اس نے گویا غلام آزاد کیا اور جس نے مسلمان کو وہاں ایک گھو نٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو اس نے گویا اسے زندگی بخشی ۶؎(ابن ماجہ)
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهٗ ؟ قَالَ: «الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ» قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هٰذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: « يَا حُمَيْرَاءُ! مَنْ أَعْطٰى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطٰى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقٰى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقٰى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3007 ، باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا