- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب:سترہ کا بیان
باب:سترہ کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عمر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم صبح کے وقت عید گاہ تشریف لے جاتے ۱؎ آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا اور آپ کے آگے عید گاہ میں گاڑ دیا جاتا حضور (صلی الله علیہ وسلم) اس کی طرف نماز پڑھتے ۲؎ (بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَى المُصَلّٰى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلّٰى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّيْ إِلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 772 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے ابن ابی جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو مکے کے ابطح مقام میں ۲؎ چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے حضور کے وضوء کا پانی لیا ۳؎اور لوگوں کو دیکھا اس پانی کی طرف دوڑ رہے ہیں ۴؎جس نے اس میں سے کچھ پالیا تو اسے مَل لیا اور جس نے نہ پایا تو اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری ۵؎لے لی پھر میں نے حضرت بلال (رضی الله عنہ) کو دیکھاانہوں نے ایک نیزہ لیا اور اسے گاڑ دیا اور نبی صلی الله علیہ وسلم سرخ جوڑے میں دامن سمیٹے تشریف ۶؎لائے نیزے کی طرف کھڑے ہو کرلوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں ۷؎اور میں نے لوگوں اور جانوروں کو نیزے کے آگے گزرتے دیکھا ۸؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِيْ قُبَّهٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُوْنَ ذَالِك الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهٖ وَمَن لَّمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهٖ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا صَلّٰى إِلَى العَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَّابَ يَمُرُّوْنَ بَينَ يَدَيْ اَلْعَنَزَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 773 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت نافع (رضی الله عنہ) سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے کرلیتے پھر اس کی طرف نماز پڑھ لیتے ۱؎ (مسلم،بخاری) بخاری نے یہ بھی زیادہ کیا میں نے کہا بتاؤ تو اگر سواری چل دیتی فرمایا کجاوے کو درست کرلیتے تھے پھر اس کی پشتی کی طرف نماز پڑھتے ۲؎
وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهٗ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَزَادَ الْبُخَارِيُّ قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ. قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهٗ فَيُصَلِّي إِلٰى اٰخِرَتِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 774 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید الله سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے کجاوے کو پشتے کی طرح رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور سامنے سےگزرنے والوں کی پرواہ نہ کرے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخَرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلَايُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 775 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابوجحیم سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اسے چالیس تک ٹھہرنا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا ابونصر کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ چالیس دن فرمائے یا مہینے یا سال۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ جُحَيْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهٗ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» . قَالَ أَبُو النَّصْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: «أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَو سَنَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 776 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی ایسی چیز کی طرف نماز پڑھے؎جو اسے لوگوں سے چھپالے ۱؎پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی اسے دفع کرے ۲؎پھر اگر نہ مانے تو اس سے جنگ کرے کہ وہ شیطان ہے ۳؎یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم میں اس کے معنی ہیں۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى شَيْءٍ يَسْتُرُهٗ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبٰى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 777 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز کو عورت اور گدھا اور کتا توڑ دیتے ہیں ۱؎اور کجاوے کی پشتی کی مثل اسے بچالیتی ہے۲؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ. وَيَقِي ذٰلِكَ مِثْلُ مُؤْخَرَةِ الرَّحْلِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 778 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے تھے حالانکہ میں آپ کے درمیان ایسے لیٹے ہوتی تھی جیسے جنازہ کا رکھا ہونا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 779 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار آیا حالانکہ میں اس دن قریب بلوغ تھا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو بغیر دیوار کی آڑ کے نماز پڑھا رہے تھے ۱؎میں بعض صف کے آگے سے گزرا پھر اتر پڑا گدھی کو چھوڑ دیا کہ چرتی تھی اور خود صف میں داخل ہوگیا اس کا مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلیٰ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلٰى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَين يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذٰلِكَ عَلِيَّ أَحَدٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 780 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے منہ کے سامنے کچھ رکھ لے ۱؎اگر نہ پائے تو اپنی لاٹھی گاڑھ لے اگر اس کے پاس لاٹھی نہ ہو تو خط کھینچ لے پھر جو چیز سامنے سے گزرے تو اسے نقصان نہ دے گی۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهٖ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصَاهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهٗ عَصَاً فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهٗ مَا مَرَّ أَمَامَهٗ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 781 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سترے کی طرف نماز پڑھے۲؎تو اس سے قریب رہے شیطان اس کی نماز نہ توڑ سکے گا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِيْ حَثْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهٗ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 782 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت مقداد بن اسود سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے نہ دیکھا مگر آپ اسے اپنی داہنی یا بائیں بھوؤں کے سامنے رکھتے تھے ۱؎اور بالکل اس کے سامنے نہ ہوتے تھے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلٰى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهٗ عَلٰى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدْ لَهٗ صَمْدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 783 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت فضل ا بن عباس سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے ہم اپنے جنگل میں تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عباس تھے آپ نے جنگل میں نماز پڑھی آپ کے سامنے سترہ نہ تھا ہماری ایک گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیلتے رہے ۱؎آپ نے اس کی پرواہ نہ کی(ابوداؤد)نسائی میں اس کی مثل ہے۔
وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهٗ عَبَّاسٌ فَصَلّٰى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا بَالِى ذَلِك. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والنِّسَائِيُّ نَحْوَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 784 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ۱؎اور جہاں تک ہوسکے دفع کرو اس لیے کہ وہ گزرنے والا شیطان ہے۔(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ وَادْرَؤُوْا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 785 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے کی جانب ہوتے ۱؎جب آپ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی؎اور جب کھڑے ہوتے تو میں پاؤں پھیلا دیتی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہ تھے۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهٖ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِي وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: وَ الْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيْحُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 786 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اسے اپنے بھائی کے سامنے گزرنے میں نماز کا راستہ کاٹتے ہوئے کیا گناہ ہے تو سو سال ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس ایک قدم ڈالنے سے بہتر ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهٗ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهٗ مِنَ الْخُطُوَةِ الَّتِي خَطَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 787 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت کعب احبار سے فرماتے ہیں اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو اس کا زمین میں دھنس جانا سامنے گزرنے سے بہتر ہوتااور ایک روایت میں ہے کہ آسان ہوتا ۱؎(مالک)
وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّيْ مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهٖ خَيْرًالَہٗ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 788 ، باب:سترہ کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی بغیر سترہ نماز پڑھے تو اس کی نماز کو گدھا اور سؤر اور یہودی اور پارسی اور عورت توڑ دیتے ہیں ۱؎اور جب یہ لوگ نمازی کے آگے پتھر پھینکنے کی مسافت سےگزریں تو سترے سے کفایت کرے گا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهٗ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَ الْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ وَتُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلیٰ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 789 ، باب:سترہ کا بیان