- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : رات کی نماز
باب : رات کی نماز
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎کہ ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے تھے ۲؎اور ایک رکعت سے وتر بناتے تھے ۳؎ اس کا ایک سجدہ اس قدر دراز کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اپنا سر اٹھانے سے پہلے پھر جب نماز فجر کا مؤذن خاموش ہوتا اور صبح چمک جاتی اور فجر ظاہر ہوجاتی تو پھر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۴؎ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس تکبیر کی اجازت لینے مؤذن آتا تو تشریف لے جاتے ۵؎ (مسلم،بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَين أَن يفرغ من صَلَاة الْعشَاء إِلَى الفَجْرِ إِحْدٰى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذٰلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهٗ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلیٰ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتّٰى يَأْتِيَهِ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ فَيَخْرُجُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1188 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں بیدار ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے ۱؎(مسلم)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِيْ وَإِلَّا اضْطَجَعَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1189 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلیٰ شَقِّهِ الْأَيْمَنِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1190 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات میں ۱۳ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی ہیں اور فجر کی سنتیں بھی ۱؎(مسلم)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا الْوِتْرُوَرَكْعَتَا الْفَجْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1191 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت مسروق سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ سات نو گیارہ رکعتیں تھیں ۲؎سنت فجر کے علاوہ(بخاری)
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ. فَقَالَتْ: سَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدٰى عَشَرَ رَكْعَةً سِوٰى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1192 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب رات میں نماز پڑھنے اٹھتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ اِفْتَتَحَ صَلَاتَهٗ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1193 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم سے کوئی رات میں کھڑا ہو تو نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَحِ الصَّلَاة َبِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1194 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے پاس ایک رات گزاری جب کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تھے ۱؎تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے بات چیت کی پھر سوگئے ۲؎توجب آخری تہائی رات ہوئی یا اس کا کچھ حصہ ۳؎تو اٹھ بیٹھے آسمان کو دیکھا اور یہ آیت پڑھی بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن رات کے بدلنے میں عقل والوں کے لیئے نشانیاں ہیں حتی کہ سورہ ختم کردی۴؎پھر مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے تو اس کی ڈوری کھولی پھر پیالے میں پانی انڈیلا پھر بہت اچھا درمیانی وضو کیا جس میں پانی زیادہ خرچ نہ کیا مگر ہر عضو پر پہنچادیا ۵؎پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی میں بھی اٹھ بیٹھا اور میں نے وضو کیا اور آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا کان پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف گھمالیا ۶؎آپ کی نماز پوری تیرہ رکعتیں ہوئی،پھر لیٹ گئے سو گئے حتی کہ خراٹے لیئے اور آپ جب سوتے خراٹے لیتے تھے ۷؎پھر آپ کو حضرت بلال نے نماز کی اطلاع دی تو نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۸؎اور آپ کی دعا میں یہ تھا الٰہی میرے دل میں نور اور میری آنکھوں میں نور میرے کانوں میں نور ۹؎میرے دائیں نور میرے بائیں نور،میرے اوپر نور میرے نیچے نور میرے آگے نور میرے پیچھے نور کردے اور مجھے نور بنادے ۱۰؎بعض محدثین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ میری زبان میں نور اور پٹھے گوشت خون بال کھال کا بھی ذکر کیا۔(مسلم،بخاری)اور ان کی ایک روایت میں ہے ۱۱؎کہ میرے دل میں نور کر اور میرا نور بڑھا اور مسلم کی دوسری روایت میں ہے الٰہی مجھے نور دے۔
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَتَحَدَّثَ رَسُولُِاللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهٖ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهٗ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْل وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَاب " حَتّٰى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى القَرْیَةِ فَأَطْلَقَ شَنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يَكْثُرْ وَقَدْ أَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلّٰى فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهٖ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهٖ فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهٗ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتّٰى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَآذَنَهٗ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ فِي دُعَائِهٖ: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وتَحْتِيْ نُوْرًا وَأَمَامِيْ نُوْرًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا» وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «وَفِي لِسَانِي نُورًا» وَذَكَرَ: " وَعَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشِعَرِي وَبُشْرِي) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا : «وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» وَفِي أُخْرٰى لِمُسْلِمٍ: «اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1195 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے انہی سے کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس سوئے تو آپ بیدار ہوئے مسواک کی اور وضو کیا ۱؎حالانکہ آپ کہتے تھے بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں یہاں تک کہ سورہ ختم کی ۲؎پھر کھڑے ہوئے دور کعتیں پڑھیں جن میں قیام رکوع سجدہ دراز کیا پھر فارغ ہوئے ۳؎تو سوگئے حتی کہ خراٹے لیئے پھر یہ تین بار کیاچھ رکعتیں پڑھیں ۴؎ہر بار مسواک و وضو کرتے تھے اور یہ آیتیں پڑھتے تھے ۵؎پھر تین رکعت وتر پڑھیں ۶؎(مسلم)
وَعَنْهُ: أَنَّهٗ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُول: (إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ)حَتّٰى خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتّٰى نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلُّ ذٰلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1196 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے ۱؎کہ انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی رات کی نماز دیکھوں گا ۲؎تو آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں دراز دراز دراز پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے ہلکی تھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے ہلکی تھیں پھر دو رکعتیں پرھیں جو پہلی دو سے ہلکی تھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے ہلکی تھیں پھر وتر پڑھے یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۳؎(مسلم)اس قول تک کہ پھر دو رکعتیں پڑھیں اور وہ دونوں اپنی پہلی سے کم تھیں،چار بار ۴؎یوں ہی صحیح مسلم میں کتاب حمیدی کے افراد میں موطا امام مالک،سنن ابوداؤد اور جامع الاصول میں ہے۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ أَنَّهٗ قَالَ: لَأَرْمَقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا [ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا ] ثُمَّ أَوْتَرَ فَذٰلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَوْله: ثمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وهما دون اللَّتَيْنِ قَبْ لَهُمَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ هٰكَذَا فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ وإِفْرَادِهٖ مِنْ كِتَابِ الْحَمِيْدِيِّ وَمُوَطَّأَ مَالِكٍ وَسُنَنِ أَبِيْ دَاوُدَ وَجَامِعِ الْأُصُوْلِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1197 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں جب نبی صلی الله علیہ وسلم جسیم اور بھاری ہوگئے تو آپ کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهٖ جَالِسًا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1198 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں وہ یکساں سورتیں جانتا ہوں جنہیں آپ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے ۱؎تو آپ نے ابن مسعود کی ترتیب پر اول مفصل بیس سورتیں بیان کیں ہر رکعت میں دو دو سورتیں جن میں آخریحٰمٓ،الدخاناورعم یتساءلونہیں۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ عَلیٰ تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ آخِرُهُنَّ (حٰمٓ الدُّخَانُ)وَ (عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1199 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھا آپ تین بار فرماتے تھے الله اکبر ملکوت جبروت کبریائی و عظمت والا ۱؎پھر نماز شروع کی ۲؎سورۂ بقرہ پڑھی، پھر رکوع کیا تو آپ کا رکوع آپ کے قیام کی مثل تھا ۳؎اپنے رکوع میںسبحان ربی العظیمکہتے رہے پھر رکوع سے سر اٹھایا آپ کا قومہ رکوع کی مثل تھا فرماتے تھےلربی الحمدپھر سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ قومہ کی مثل تھا ۴؎اپنے سجدہ میں فرماتے تھےسُبْحَانَ ربی الاعلیپھر سجدے سے سر اٹھایا اور آپ دو سجدوں کے بیچ سجدے کی مثل ہی بیٹھتے تھے اور کہتے تھے مولیٰ مجھے بخش دے ۵؎چار رکعتیں پڑھیں جن میں بقرہ، آل عمران، نساء مائدہ یا انعام پڑھیں، شک شعبہ کو ہے ۶؎(ابوداؤد)
عَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَكَانَ يَقُولُ: «اَللهُ أَكْبَرْ» ثَلَاثًا «ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهٖ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهٗ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهٖ يَقُولُ: «لِرَبِّيَ الْحَمْدُ» ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهٗ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهٖ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ » ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ السُّجُودِ وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهٖ وَكَانَ يَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي» فَصَلّٰى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَرَأَ فِيهِنَّ (الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ) شَكَّ شُعْبَةُ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1200 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو بن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو رات کھڑے ہو کر دس آیتیں پڑھے ۱؎تو وہ غافلوں سے نہ لکھا جائے گا اور جو کھڑے ہو کر سو آیتیں پڑھے وہ مطیعون میں سے لکھا جائے گا ۲؎اور جو کھڑے ہو کر ہزار آیتیں پڑھے تو وہ بہت ثواب والوں میں لکھا جائے گا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1201 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رات میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قرأت یوں تھی کہ کبھی بلند پڑھتے کبھی پست ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1202 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قرأت اس قدر تھی کہ اسے صحن والے سن لیتے جب کہ آپ کوٹھڑی میں ہوتے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ قَدْرِ مَا يَسْمَعُهٗ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1203 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک رات تشریف لے گئے ۱؎ابوبکر صدیق تک پہنچے وہ نماز پڑھ رہے تھے بہت پست آواز سے اور حضرت عمر پر گزرے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے بلند آواز سے راوی نے فرمایا کہ جب یہ دونوں حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو فرمایا ۲؎اے ابوبکر ہم تم پر گزرے تو آواز پست کیے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے عرض کیا یارسول الله جس سے مناجات کررہا تھا اسے سنالیا ۳؎حضرت عمر سے فرمایا کہ ہم تم پر گزرے تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم سوتوں کو جگاتا تھا شیطان کو بھگاتا تھا ۴؎فرمایا حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اے ابوبکر تم اپنی آواز کچھ بلند کرو اور حضرت عمر سے فرمایا کہ تم اپنی آواز کچھ پست کرو ۵؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی۔
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهٖ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهٗ قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ» قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا».رَوَاهُ أَبُودَاوُد َوَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحوَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1204 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قیام فرمایا حتٰی کہ ایک آیت پر صبح ہوگئی ۱؎یہ آیت تھی اگر تو اسے عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے ۲؎(نسائی۔ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ: (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْعِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإنَّك أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1205 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی فجر کی سنتیں پڑھ لے تو داہنی کروٹ پر لیٹ جائے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلیٰ يَمِينِهٖ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1206 ، باب : رات کی نماز
روایت ہے حضرت مسروق سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پیارا تھا فرمایا ہمیشہ کا ۱؎میں نے کہا کہ رات میں کس وقت اٹھتے تھے فرمایا جب مرغ کی اذان سنتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ قُلْتُ: فَأَيُّ حِينَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقُومُ إِذا سَمِعَ الصَّارِخَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1207 ، باب : رات کی نماز
- 1
- 2